لاہور میں ان دنوں درجہ حرارت 36 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ چکا ہے، جو بظاہر معمولی لگتا ہے، مگر ہوا میں نمی کے باعث گرمی کی شدت کہیں زیادہ محسوس ہو رہی ہے۔ نمی کا تناسب بڑھنے سے انسانی جسم پسینہ تو خارج کرتا ہے، لیکن وہ جلدی خشک نہیں ہوتا، جس کی وجہ سے جسم کی قدرتی ٹھنڈک کا نظام متاثر ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے 36 ڈگری کا درجہ حرارت بھی 42 یا 43 ڈگری جیسا محسوس ہوتا ہے، جسے “فیلز لائیک” یا “محسوس شدہ درجہ حرارت” کہا جاتا ہے۔ اگر اس موسم میں ہوا نہ چلے تو صورتحال مزید خراب ہو جاتی ہے، کیونکہ ٹھنڈی ہوا پسینے کو خشک کرنے اور جسم کو ٹھنڈک پہنچانے میں مدد دیتی ہے۔ حبس زدہ ماحول شہریوں کے لیے شدید تکلیف دہ ثابت ہو رہا ہے، خاص طور پر وہ لوگ جو باہر کام کرتے ہیں جیسے مزدور، ٹریفک پولیس اہلکار، رکشہ ڈرائیورز وغیرہ۔ اس کے ساتھ ساتھ، بچے، بزرگ اور وہ افراد جو پہلے سے کسی بیماری میں مبتلا ہیں، وہ بھی اس موسم سے بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔ ڈاکٹروں کی جانب سے ہدایت جاری کی گئی ہے کہ شہری غیر ضروری طور پر دھوپ میں نکلنے سے گریز کریں، پانی اور مشروبات کا زیادہ استعمال کریں، ہلکے کپڑے پہنیں اور ٹھنڈی جگہوں پر قیام کریں۔ اگرچہ 36 ڈگری بظاہر اتنی خطرناک نہیں لگتی، مگر نمی اور ہوا کی کمی کے باعث یہ موسم صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
لاہور میں بڑھتی ہوئی شدید گرمی نے شہریوں کو شدید نڈھال کر دیا
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل







