اسلام آباد ہائی کورٹ نے 15 سالہ لڑکی کو اُس کے شوہر کے ساتھ رہنے کی اجازت دے دی

اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایک کیس میں 15 سالہ لڑکی کو اس کے شوہر کے ساتھ رہنے کی اجازت دی، جس پر ملک بھر میں کافی بحث ہوئی۔ اس کیس میں لڑکی نے عدالت میں بیان دیا کہ اس نے اپنی مرضی سے شادی کی ہے اور وہ بالغ ہے، یعنی وہ جسمانی طور پر بلوغت کو پہنچ چکی ہے۔ عدالت نے یہ مؤقف تسلیم کیا کہ اگر لڑکی بلوغت حاصل کر چکی ہو، تو بعض حالات میں وہ اپنی مرضی سے شادی کرنے کا اختیار رکھتی ہے، چاہے اس کی عمر قانونی حد (16 یا 18 سال) سے کم ہی کیوں نہ ہو۔ چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ کے تحت اگرچہ کم عمری کی شادی قابل سزا جرم ہے، لیکن عدالت نے شادی کو کالعدم قرار نہیں دیا، بلکہ لڑکی کی رضامندی اور بلوغت کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ سنایا کہ وہ اپنے شوہر کے ساتھ رہ سکتی ہے۔ اس فیصلے پر تنقید بھی ہوئی کیونکہ یہ بچوں کے تحفظ اور انسانی حقوق کے قوانین کے منافی سمجھا جاتا ہے۔ تاہم، عدالت نے یہ فیصلہ مخصوص شواہد اور قانونی نکات کی روشنی میں دیا، جو قابلِ اپیل اور مزید عدالتی نظرِ ثانی کے دائرے میں آتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں