عدالت نے گٹکا فروشوں کو شجرکاری کی سزا سنا دی

دادو میں دو گٹکا فروشوں کا جرم ثابت ہونے پر عدالت نے انہیں مجموعی طور پر سو پودے لگانے اور اُن کی مناسب نگہداشت کرنے کی سزا سنائی۔ عدالت نے قرار دیا کہ گٹکا فروشی نہ صرف صحتِ عامہ کے لیے نقصان دہ ہے بلکہ معاشرتی اور ماحولیاتی تباہی بھی لاتی ہے، اس لیے روایتی سزاؤں کے بجائے ملزمان کو ماحول دوست عمل کے ذریعے معاشرے کو واپس کچھ دینے کا موقع دیا جائے۔ حکم کے تحت ملزمان کو مخصوص مقامات پر پودے لگانے، انہیں پانی اور حفاظتی انتظامات فراہم کرنے اور پودوں کی کم از کم ایک سال تک دیکھ بھال یقینی بنانے کا پابند کیا گیا ہے۔ مقامی انتظامیہ اور جنگلات محکمے کو نگرانی کی ذمّہ داری سونپی گئی ہے تاکہ یہ سزا محض ایک علامتی قدم نہ رہ جائے بلکہ درحقیقت درخت پودے بڑھ کر علاقے میں سرسبزی اور فضائی معیار میں بہتری لائیں۔ عدالت نے اس حکم کے ساتھ یہ بھی واضح کیا کہ اگر ملزمان نگہداشت میں ناکام رہے تو انہیں متبادل قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا، اور اس اقدام کو مقامی سطح پر شعور اجاگر کرنے اور صحتِ عامہ کے تحفظ کے لیے ایک اصلاحی پیغام کے طور پر دیکھا گیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں