کراچی سمندر میں شدید طغیانی کے باعث ماہی گیروں پر پابندی

کراچی اور سندھ کے دیگر ساحلی علاقوں میں حالیہ دنوں کے دوران سمندر کی صورتحال نہایت خراب اور خطرناک بتائی جا رہی ہے۔ محکمہ موسمیات کی جانب سے ماہی گیروں کو سمندر میں طغیانی، تیز ہواؤں اور بلند لہروں کے باعث شدید احتیاط برتنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔ بعض غیر مصدقہ ذرائع کے مطابق 3 اکتوبر 2025 تک ماہی گیروں کو سمندر میں جانے سے روک دیا گیا ہے، تاہم اس حوالے سے تاحال کوئی سرکاری نوٹیفکیشن سامنے نہیں آیا ہے جو یہ واضح طور پر بتائے کہ حکومت نے مکمل قانونی پابندی عائد کی ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ ایسی صورتحال پیدا ہوئی ہو۔ ماضی میں بھی خراب موسم یا طوفانی ہواؤں کی پیش گوئی کے دوران محکمہ موسمیات یا ماہی گیری کے ادارے ماہی گیروں کو عارضی طور پر سمندر سے دور رہنے کی ہدایت دیتے رہے ہیں، تاکہ قیمتی جانوں کو بچایا جا سکے۔ مگر یہ ہدایات عمومی طور پر حفاظتی اقدامات کے تحت دی جاتی ہیں، اور انہیں باقاعدہ قانونی پابندی نہیں سمجھا جاتا، جب تک کہ متعلقہ محکمے کی جانب سے تحریری حکم نامہ جاری نہ ہو۔

علاوہ ازیں، سندھ حکومت نے ماہی گیری کے شعبے میں چند مستقل نوعیت کی پابندیاں بھی نافذ کر رکھی ہیں، جیسے کہ بعض اقسام کے جالوں (مثلاً purse seine nets، bottom trawls وغیرہ) کے استعمال پر پابندی، خاص طور پر ساحل سے 12 ناٹیکل میل کے اندر۔ ان پابندیوں کا مقصد زیرِ آب حیات کو غیر قانونی شکار اور حد سے زیادہ ماہی گیری سے بچانا ہے، تاکہ سمندری ماحولیاتی نظام برقرار رہ سکے۔

لہٰذا موجودہ صورتحال میں اگرچہ موسمی حالات کے پیشِ نظر سمندر میں جانے سے اجتناب برتنا دانشمندی ہے، لیکن کسی بھی قسم کی مکمل قانونی پابندی کے بارے میں یقین سے کچھ کہنا اس وقت تک ممکن نہیں جب تک کوئی تازہ ترین سرکاری نوٹیفکیشن جاری نہ کیا جائے۔ ماہی گیروں کو چاہیے کہ وہ متعلقہ سرکاری اداروں سے باقاعدہ معلومات حاصل کریں اور کسی بھی خطرے سے بچنے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں