پروکٹر اینڈ گیمبل (P&G) کا پاکستان سے کاروبار سمیٹنے کا فیصلہ ایک بڑی عالمی کاروباری حکمت عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد اپنی سرگرمیوں کو سادہ، موثر اور زیادہ منافع بخش بنانا ہے۔ کمپنی نے اعلان کیا ہے کہ وہ پاکستان میں اپنی براہِ راست مینوفیکچرنگ اور کمرشل سرگرمیاں بند کر رہی ہے اور آئندہ اپنی مصنوعات جیسے Pampers, Ariel, Head & Shoulders وغیرہ کو تھرڈ پارٹی ڈسٹری بیوٹرز کے ذریعے فروخت کرے گی۔ اس فیصلے کی کئی وجوہات ہیں جن میں پاکستان میں جاری معاشی عدم استحکام، غیر یقینی بزنس ماحول، درآمدی پابندیاں، روپے کی قدر میں شدید کمی، منافع کی واپسی (profit repatriation) کی راہ میں رکاوٹیں اور مہنگی لاگت شامل ہیں۔ ان مسائل نے بین الاقوامی کمپنیوں کے لیے یہاں کاروبار چلانا مشکل بنا دیا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ، P&G کی ذیلی کمپنی Gillette پاکستان نے بھی ممکنہ طور پر پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) سے delist ہونے پر غور شروع کر دیا ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ کمپنی پاکستان میں اپنی مستقل موجودگی ختم کرنے کے قریب ہے۔ کمپنی نے کہا ہے کہ متاثرہ ملازمین کو یا تو بین الاقوامی دفاتر میں متبادل مواقع دیے جائیں گے یا پھر پاکستان کے لیبر قوانین کے مطابق معاوضہ پیکج دیا جائے گا۔
اگرچہ کمپنی نے ملک چھوڑنے کا اعلان کیا ہے، تاہم صارفین کے لیے یہ اطمینان بخش بات ہے کہ P&G کی مصنوعات پاکستان میں بدستور دستیاب رہیں گی، لیکن یہ مصنوعات براہِ راست ملک میں تیار نہیں ہوں گی بلکہ درآمد شدہ یا علاقائی سپلائی چینز کے ذریعے آئیں گی۔ یہ ماڈل کمپنی کو کم لاگت اور زیادہ کنٹرول فراہم کرتا ہے، لیکن اس سے مقامی ملازمتوں، صنعت اور ٹیکس نیٹ پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔
یہ فیصلہ پاکستان میں موجود دیگر بین الاقوامی کمپنیوں جیسے Shell اور Pfizer کی روانگی کے بعد آیا ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پاکستان میں کاروباری ماحول بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے لیے تیزی سے غیر پرکشش ہوتا جا رہا ہے۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو مستقبل میں مزید بین الاقوامی کمپنیاں بھی ملک چھوڑ سکتی ہیں، جو معیشت کے لیے ایک خطرناک رجحان ثابت ہو سکتا ہے۔







