دو یا زائد بجلی میٹر: مکمل پابندی کا دعویٰ غلط قرار

حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا اور بعض خبروں میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ حکومت نے گھروں میں دو یا دو سے زائد بجلی کے میٹر رکھنے پر مکمل پابندی لگا دی ہے۔ تاہم پاور ڈویژن نے اس تاثر کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے وضاحت کی ہے کہ ایسی کوئی پابندی نہیں لگائی گئی۔ حکومت کا مقصد صرف اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ جو افراد ایک سے زیادہ میٹر رکھنا چاہتے ہیں، وہ اس عمل کے لیے مقرر کردہ شرائط پر پورا اُتریں۔

حکام کا کہنا ہے کہ اگر کسی مکان یا عمارت میں دو یا زائد میٹرز نصب ہیں، تو ان کے لیے لازمی ہوگا کہ وہ رہائش گاہیں ایک دوسرے سے واضح طور پر علیحدہ ہوں۔ اس کے لیے چند بنیادی شرائط طے کی گئی ہیں، جیسے کہ ہر یونٹ کا الگ داخلی و خارجی راستہ ہو، علیحدہ کچن موجود ہو، اور بجلی کی فراہمی کے لیے الگ وائرنگ یا الیکٹرک سرکٹ ہو۔ اگر ان شرائط پر پورا نہیں اُترا جاتا، تو اضافی میٹر کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

اس کے علاوہ، حکومت نے شناختی کارڈ نمبر یا اکنامک کارڈ نمبر کے ذریعے میٹرز کی جانچ کا نظام متعارف کرایا ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ ایک ہی فرد کے نام پر کتنے میٹرز رجسٹرڈ ہیں۔ اس کا مقصد “محفوظ صارف” کیٹیگری میں فراڈ کو روکنا ہے، کیونکہ بعض افراد سبسڈی حاصل کرنے کے لیے گھروں میں بجلی کی کھپت کو تقسیم کر کے متعدد میٹر استعمال کر رہے تھے۔

حکومت نے اس بات کا عندیہ بھی دیا ہے کہ غیر قانونی یا جعلی میٹرز رکھنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن کیا جائے گا۔ اگر کوئی فرد اضافی میٹر لگوانا چاہے تو اسے متعلقہ بجلی کی کمپنی (جیسے LESCO، MEPCO، FESCO وغیرہ) میں باضابطہ درخواست دینی ہوگی، جس کے بعد موقع پر معائنہ کیا جائے گا تاکہ یہ تصدیق کی جا سکے کہ شرائط پوری کی گئی ہیں یا نہیں۔ بعض صورتوں میں صارف سے اسٹامپ پیپر پر حلفیہ بیان بھی لیا جائے گا کہ وہ حصہ واقعی ایک الگ رہائشی یونٹ ہے۔یہ اقدامات اس لیے کیے جا رہے ہیں تاکہ بجلی کی تقسیم میں انصاف کو یقینی بنایا جا سکے اور حکومت کی جانب سے دی جانے والی سبسڈی صرف انہی افراد تک محدود رہے جو واقعی مستحق ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں