پاکستان میں گیس میٹرز لگانے کا عمل تیز، گیس چوری روکنے کے لیے اقدامات

پاکستان میں گیس میٹرز لگانے کا عمل حالیہ برسوں میں خاص طور پر تیز ہوگیا ہے، جس کی بنیادی وجہ گیس چوری کو روکنا اور گیس کی فراہمی کو شفاف اور منظم بنانا ہے۔ پہلے کے زمانے میں کئی علاقوں میں گیس کے بل کا حساب اندازے کی بنیاد پر کیا جاتا تھا، جس کی وجہ سے صارفین کو کبھی زیادہ اور کبھی کم بل ادا کرنا پڑتے تھے۔ اس کے علاوہ غیر قانونی طور پر گیس چوری کے واقعات بھی عام تھے، جس سے گیس کی فراہمی متاثر ہوتی تھی اور کمپنیاں مالی نقصانات میں مبتلا رہتی تھیں۔

جدید گیس میٹرز صارفین کے گیس کے استعمال کو بالکل درست انداز میں ماپتے ہیں، جس سے ہر صارف کو صرف اپنی اصل کھپت کے مطابق بل ادا کرنا پڑتا ہے۔ اس سے صارفین کو بھی فائدہ ہوتا ہے کیونکہ وہ اپنے بل کو سمجھ سکتے ہیں اور غیر ضروری اضافے سے بچ سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ گیس چوری کی روک تھام میں بھی مدد ملتی ہے، کیونکہ غیر قانونی استعمال کو پکڑنا آسان ہوتا ہے۔

حکومت پاکستان اور متعلقہ گیس کمپنیوں نے ملک بھر میں گیس میٹرز کی تنصیب کا منصوبہ شروع کیا ہے، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں غیر قانونی استعمال زیادہ پایا جاتا تھا۔ پرانے اور ناقص میٹرز کو بدل کر جدید الیکٹرانک یا ڈیجیٹل میٹرز لگائے جا رہے ہیں، جو دور سے بھی پڑھے جا سکتے ہیں اور بلنگ کے عمل کو آسان اور شفاف بناتے ہیں۔ اس سے نہ صرف توانائی کی بچت ہوگی بلکہ صارفین کو درست اور شفاف بلنگ کا موقع بھی ملے گا۔

اگر آپ اپنے گھر یا کاروبار میں گیس میٹر لگوانا چاہتے ہیں تو آپ اپنے مقامی گیس سپلائی کمپنی یا متعلقہ محکمہ سے رابطہ کر سکتے ہیں۔ درخواست جمع کروانے کے بعد معائنہ کیا جاتا ہے اور میٹر کی تنصیب کا عمل شروع ہوتا ہے۔ بعض اوقات اس کے لیے معمولی فیس بھی ادا کرنی پڑ سکتی ہے جو کمپنی کی پالیسی کے مطابق ہوتی ہے۔

گیس میٹرز کی تنصیب سے ملک میں گیس کی بچت ہوگی اور توانائی کے وسائل کو بہتر انداز میں استعمال کیا جا سکے گا۔ اس کے علاوہ صارفین کو بھی اپنے بلوں میں شفافیت اور درستگی کا یقین حاصل ہوگا، جو مالی طور پر ان کے لیے بہتر ہے۔ اگر آپ چاہیں تو میں آپ کو اپنے علاقے میں گیس میٹر لگوانے کے لیے متعلقہ اداروں کے رابطے یا درخواست کا نمونہ فراہم کرنے میں بھی مدد کر سکتا ہوں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں