لاہور دھماکہ: گیس سلنڈر پھٹنے سے بچی سمیت دو افراد جاں بحق

لاہور کے مصروف اور گنجان آباد علاقے لوئر مال میں ایک افسوسناک اور ہولناک واقعہ پیش آیا جس نے نہ صرف دو قیمتی جانیں لے لیں بلکہ علاقے کے رہائشیوں میں شدید خوف و ہراس بھی پھیلا دیا۔ واقعہ ایک گیس سلنڈر کے زوردار دھماکے کی صورت میں پیش آیا، جو کہ ایک مقامی گودام میں ہوا۔ گودام میں گیس سلنڈرز کو غیرقانونی طور پر دوبارہ بھرا جا رہا تھا۔

دھماکہ اس قدر شدید تھا کہ آس پاس کی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے، کئی گھروں اور دکانوں کو نقصان پہنچا اور پورے علاقے میں افراتفری مچ گئی۔ دھماکے کی آواز دور دور تک سنی گئی، جس کے بعد ریسکیو ٹیمیں، پولیس اور فائر بریگیڈ فوراً موقع پر پہنچ گئیں۔

اس واقعے میں دو افراد موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔ ان میں ایک چار سالہ معصوم بچی عائشہ شامل تھی، جو کہ قریب ہی واقع اپنے گھر میں موجود تھی۔ دوسرا جاں بحق ہونے والا شخص 55 سالہ منیر تھا، جو مبینہ طور پر سلنڈر ریفِلنگ کے کام سے منسلک تھا۔ دونوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا، لیکن وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے۔

پولیس نے ابتدائی تحقیقات کے بعد تین افراد — طفیل، اکمل اور فہد — کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔ ان پر الزام ہے کہ وہ سلنڈر ریفِلنگ کا غیر قانونی کاروبار کر رہے تھے اور انہوں نے حفاظتی اقدامات کو مکمل طور پر نظر انداز کیا، جس کی وجہ سے یہ افسوسناک سانحہ پیش آیا۔

پولیس اور بم ڈسپوزل اسکواڈ نے دھماکے کی جگہ سے شواہد اکٹھے کر لیے ہیں اور مزید تحقیقات جاری ہیں تاکہ ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔ شہریوں نے اس واقعے کے بعد انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ شہر بھر میں ایسے غیر قانونی گیس ریفِلنگ سینٹرز کے خلاف فوری کارروائی کی جائے تاکہ آئندہ اس قسم کے واقعات سے بچا جا سکے۔

یہ واقعہ نہ صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں بلکہ شہریوں کے لیے بھی ایک لمحہ فکریہ ہے کہ کس طرح حفاظتی اصولوں کو نظرانداز کرنا انسانی جانوں کے ضیاع کا سبب بن سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں