گجرانوالہ میں ایک نہایت افسوسناک اور دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا ہے، جس نے پورے معاشرے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ایک نئی نویلی دلہن، جس کی شادی صرف چند ماہ قبل ستمبر میں ہوئی تھی، جہیز کے نام پر اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھی۔ شروع شروع میں معمولی باتوں پر چلنے والے جھگڑے وقت کے ساتھ بڑھتے گئے اور سسرالیوں کی جانب سے جہیز کے مطالبات میں شدت آ گئی۔ یہ مطالبات اس قدر سخت اور غیر انسانی تھے کہ خاتون کے لیے زندگی نا قابل برداشت ہو گئی۔
مبینہ طور پر سسرال والوں نے ایک ایسا قدم اٹھایا جو کسی بھی انسانیت سے عاری عمل سے کم نہیں۔ انہوں نے زبردستی اس پر تیزاب پلایا، جس سے خاتون شدید زخمی ہو گئی۔ اسے فوری طور پر قریبی ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے اس کی حالت تشویشناک بتائی۔ باوجود تمام طبی امداد کے، زخموں کی شدت اور تیزاب کے اثرات نے خاتون کو زندگی کی بازی ہارنے پر مجبور کر دیا۔ اس واقعے نے پورے علاقے کو غم اور صدمے میں مبتلا کر دیا۔
پولیس نے اس دلخراش واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے مقدمہ درج کر لیا ہے اور مقتولہ کے شوہر کو گرفتار کر لیا ہے۔ اس کے علاوہ مزید تحقیقات جاری ہیں تاکہ دیگر ملوث افراد کی گرفتاری بھی ممکن ہو سکے اور انصاف کے تقاضے پورے کیے جا سکیں۔ اس واقعے نے ایک بار پھر جہیز کے نام پر خواتین کے خلاف ہونے والے ظلم اور زیادتیوں کی گمبھیر صورتحال کو بے نقاب کر دیا ہے۔
سماجی حلقوں، حقوقِ نسواں کے کارکنوں اور عام عوام نے اس واقعے کی شدید مذمت کی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ ایسے ظالم اور انسانیت دشمن عناصر کو سخت سے سخت سزا دی جائے تاکہ آئندہ کسی اور بیٹی کی زندگی خطرے میں نہ پڑے۔ یہ واقعہ معاشرتی رویوں پر گہرا سوال اٹھاتا ہے اور ہمیں ایک بار پھر متنبہ کرتا ہے کہ جہیز کے خلاف اجتماعی طور پر سخت اقدامات کرنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ خواتین کو تحفظ دیا جا سکے اور ان کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔







