کیا برمودا ٹرائینگل خلائی مخلوق کا دروازہ ہے؟ ماہرین بھی حیران

برمودا ٹرائینگل، جسے “شیطانی تکون” (Devil’s Triangle) بھی کہا جاتا ہے، شمالی بحرِ اوقیانوس (Atlantic Ocean) میں واقع ایک ایسا سمندری علاقہ ہے جو دنیا کے سب سے پُراسرار اور خوفناک مقامات میں شمار ہوتا ہے۔ یہ علاقہ تین مقامات کو جوڑ کر ایک تکون بناتا ہے: برمودا (Bermuda)، میامی (Florida, USA)، اور سان خوآن (Puerto Rico)۔ اس خطے کو شہرت اس وقت ملی جب یہاں درجنوں طیارے، بحری جہاز اور کشتیاں بغیر کسی سراغ کے غائب ہو گئیں۔ ان واقعات کی سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ نہ تو کوئی ملبہ ملا، نہ ہی کسی کا کوئی سراغ، اور بعض اوقات تو پیغامات بھی اچانک منقطع ہو گئے۔

تاریخی طور پر، برمودا ٹرائینگل سے متعلق پہلا بڑا واقعہ 1945 میں پیش آیا، جب امریکی بحریہ کے پانچ طیارے (Flight 19) تربیتی مشن کے دوران غائب ہو گئے۔ ان کی تلاش میں بھیجا جانے والا ریسکیو طیارہ بھی غائب ہو گیا، اور آج تک ان کا کوئی نشان نہیں ملا۔ اس کے بعد کئی تجارتی جہاز، چھوٹے ہوائی جہاز، اور کشتیاں بھی اسی علاقے میں پراسرار طور پر لاپتہ ہو چکی ہیں، جن میں تربیت یافتہ عملے اور جدید آلات کی موجودگی کے باوجود کوئی خرابی رپورٹ نہیں ہوئی۔

برمودا ٹرائینگل سے متعلق متعدد نظریات پیش کیے گئے ہیں۔ کچھ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس علاقے میں مقناطیسی کشش غیر معمولی ہے، جس کی وجہ سے کمپاس اور دیگر نیویگیشن آلات خراب ہو جاتے ہیں۔ دیگر کا خیال ہے کہ یہاں میٹھین گیس کے بلبلا سمندر کی تہہ سے نکلتے ہیں، جو پانی کی کثافت کو کم کر کے جہازوں کو ڈبونے کا سبب بنتے ہیں۔ کچھ نظریات اس معاملے کو ماورائی قوتوں، خلائی مخلوق (Aliens)، یا وقت کے سفر (Time Warps) سے بھی جوڑتے ہیں۔ کچھ ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ برمودا ٹرائینگل میں موسم اچانک اور انتہائی تیزی سے تبدیل ہو سکتا ہے، جو طیاروں یا کشتیوں کے لیے خطرناک ثابت ہوتا ہے۔

اگرچہ سائنسی برادری کی جانب سے اکثر ان واقعات کو فنی خرابی، انسانی غلطی یا موسمی حالات سے جوڑنے کی کوشش کی جاتی ہے، لیکن اب بھی کئی واقعات ایسے ہیں جن کی مکمل وضاحت نہیں ہو سکی۔ یہی وجہ ہے کہ برمودا ٹرائینگل آج بھی دنیا کے سب سے بڑے اور حل نہ ہونے والے معمہ جات میں سے ایک سمجھا جاتا ہے، جو محققین، سائنسدانوں، اور تجسس پسندوں کے لیے دلچسپی کا باعث بنا ہوا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں