حال ہی میں راولپنڈی ڈسٹرکٹ انتظامیہ کی جانب سے ایک نیا اور متنازعہ فیصلہ سامنے آیا ہے جس کے تحت عدالت میں ہونے والی پسند کی شادیاں یا عام الفاظ میں “بھاگ کر شادی” کرنے والے جوڑوں کا نکاح یونین کونسل میں رجسٹر نہیں کیا جائے گا۔ اس فیصلے کا اطلاق خاص طور پر اُن نکاحوں پر ہوگا جو عدالت یا اس کے احاطے میں رجسٹرار کے ذریعے انجام دیے جاتے ہیں۔ ضلعی انتظامیہ نے اس فیصلے کی وجہ یہ بتائی ہے کہ حالیہ دنوں میں پسند کی شادیوں کی شرح میں اضافہ ہوا ہے، جس سے معاشرتی مسائل اور خاندانوں میں تنازعات جنم لے رہے ہیں۔
اس حکم نامے کے مطابق، یونین کونسل کے اہلکار اگر کسی عدالتی نکاح کی رجسٹریشن کرتے ہوئے پائے گئے تو ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی، جس میں جرمانہ، معطلی، یا لائسنس کی منسوخی شامل ہو سکتی ہے۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے نہ صرف شہریوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوں گے بلکہ ایسے جوڑوں کو شناخت، وراثت، بچوں کی ولدیت، اور دیگر قانونی معاملات میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
یہ اقدام پاکستان کے آئین میں دیے گئے بالغ افراد کے نکاح کے حق سے متصادم سمجھا جا رہا ہے، اور امکان ہے کہ یہ معاملہ جلد ہی عدالتوں میں چیلنج کیا جائے گا۔







