وفاقی بورڈ کا بڑا فیصلہ: پاسنگ مارکس میں اضافہ

وفاقی تعلیمی بورڈ اسلام آباد (FBISE) نے تعلیمی معیار کو بلند کرنے اور طلباء کی کارکردگی کا مؤثر جائزہ لینے کے لیے ایک اہم تعلیمی اصلاحات کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت کم از کم پاسنگ مارکس 33 فیصد سے بڑھا کر 40 فیصد کر دیے گئے ہیں۔ یہ تبدیلی پہلی بار سال 2026 کے سالانہ امتحانات سے لاگو ہوگی، اور مرحلہ وار نافذ کی جائے گی۔ ابتدائی طور پر اس کا اطلاق نہم (SSC-I) اور گیارہویں (HSSC-I) جماعت کے طلباء پر ہوگا، اور بعد میں یہ تبدیلی دسویں اور بارہویں جماعت یعنی SSC-II اور HSSC-II پر بھی لاگو کی جائے گی۔

اس اقدام کے پیچھے بنیادی مقصد تعلیم کو محض “پاس ہونے” کی بجائے “قابلیت اور معیار” کے اصول پر استوار کرنا ہے۔ ماضی میں 33 فیصد مارکس حاصل کر کے طالب علم پاس ہو جاتے تھے، جو بعض اوقات تعلیمی قابلیت کے اصل معیار کو ظاہر نہیں کرتا تھا۔ 40 فیصد مارکس کی شرط سے طلباء کو اب امتحان میں بہتر تیاری کرنی ہوگی، تاکہ وہ محض “گزرجانے” کی بجائے علم کو بہتر طور پر سمجھ کر کامیابی حاصل کریں۔

اس کے ساتھ ہی وفاقی بورڈ نے نیا گریڈنگ سسٹم متعارف کروایا ہے، جس کے ذریعے طلباء کی کارکردگی کو مزید شفاف اور معیاری انداز میں جانچا جائے گا۔ اب صرف پاس یا فیل کی بنیاد پر نتیجہ نہیں ہوگا بلکہ مختلف گریڈز (مثلاً A+, A, B, C وغیرہ) کی مدد سے ہر طالب علم کی قابلیت کو بہتر انداز میں اجاگر کیا جائے گا۔

ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ تبدیلی بظاہر طلباء کے لیے چیلنجنگ ہو سکتی ہے، خاص طور پر اُن کے لیے جو بمشکل 33 فیصد مارکس حاصل کرتے تھے، لیکن یہ قدم تعلیم میں سنجیدگی، محنت، اور معیار کو فروغ دے گا۔ والدین، اساتذہ اور تعلیمی اداروں کو چاہیے کہ وہ طلباء کی بہتر رہنمائی کریں اور انہیں اس نئے نظام کے تقاضوں سے ہم آہنگ کریں تاکہ وہ کامیابی کے ساتھ نہ صرف پاس ہو سکیں بلکہ بہتر گریڈز کے ساتھ آگے بڑھ سکیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں