کراچی میں خوف بدستور — بھتہ خوری سے تاجروں کا نقل مکانی کا خدشہ

کراچی میں پچھلے کچھ عرصے سے دوبارہ خوف کی فضا محسوس کی جا رہی ہے، جہاں بعض علاقوں میں بھتہ خوری، ہراسگی اور مسلح گروہوں کی سرگرمیوں کے باعث تاجروں اور دکانداروں میں شدید پریشانی پائی جاتی ہے۔ متعدد کاروباری افراد نے بتایا ہے کہ انتہائی محفوظ سمجھی جانے والی شاہراہیں اور کاروباری مراکز بھی اب محفوظ محسوس نہیں ہوتے، جس کے نتیجے میں کچھ تاجروں نے کاروبار بند کر کے بیرونِ ملک یا دیگر شہروں کو منتقل ہونے کا سوچنا شروع کر دیا ہے۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ مسلسل دھمکیاں، مانگیں جانے والی رقم اور پرہجوم مارکیٹس میں حفاظت کے فقدان نے ان کی کاروباری زندگی کو ناقابلِ برداشت بنا دیا ہے، جبکہ صارفین کی نقل و حرکت میں کمی اور کاروبار میں زوال نے روزگار کے مواقع کو بھی متاثر کیا ہے۔

ماہرینِ معاشیات اور مقامی تجارتی تنظیمیں خدشہ ظاہر کر رہی ہیں کہ اگر صورتحال میں فوری بہتری نہ آئی تو چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار بند ہونے سے شہر کی معیشت پر سنگین اثرات مرتب ہوں گے۔ شہری تحفظ کے حوالے سے مقامی پولیس، CPLC اور تجارتی انجمنوں پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ مربوط حکمتِ عملی مرتب کریں، ہاٹ لائنز اور حفاظتی اقدامات کو فعال کریں، اور متاثرہ تاجروں کو محفوظ راستے فراہم کریں تاکہ لوگ ملک چھوڑنے پر مجبور نہ ہوں۔ شہریوں اور تاجروں نے حکومت سے فوری کارروائی، سخت نگرانی اور مجرموں کے خلاف فتویٰ دینے کی اپیل کی ہے تاکہ شہر میں امن و امان کی فضا بحال ہو سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں