عدالت نے عائشہ عمر کے شو “لازوال عشق” کے خلاف درخواست پر نوٹس جاری کر دیا

اداکارہ عائشہ عمر کے شو”لازوال عشق” کے خلاف ایک درخواست عدالت میں دائر کی گئی ہے، جس کے بعد عدالت نے اس معاملے پر نوٹس جاری کر دیا ہے۔ درخواست گزار کا مؤقف ہے کہ یہ شو نہ صرف معاشرتی اور مذہبی اقدار کے خلاف ہے بلکہ اس میں فحاشی اور غیر اخلاقی مناظر کو نمایاں طور پر دکھایا جا رہا ہے، جو نوجوان نسل پر منفی اثرات مرتب کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس قسم کے مواد سے نوجوانوں کی ذہنیت متاثر ہوتی ہے اور یہ معاشرتی بگاڑ کا باعث بن سکتا ہے۔ درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ ایسے ڈراموں پر پابندی عائد کی جائے تاکہ معاشرتی اقدار کی حفاظت ہو سکے۔

عدالت نے درخواست پر ابتدائی سماعت کرتے ہوئے دونوں فریقین کو نوٹس جاری کر دیے ہیں اور ان سے جواب طلب کیا ہے کہ وہ اپنی پوزیشن واضح کریں۔ اس دوران عدالتی کارروائی کا معاملہ سوشل میڈیا اور میڈیا رپورٹس میں بھی موضوع بحث بنا ہوا ہے۔ جہاں ایک جانب کچھ لوگ اسے فنکارانہ اظہارِ خیال اور تخلیقی آزادی کے حق میں قرار دے رہے ہیں، وہیں دوسری جانب ایک بڑا حلقہ اسے معاشرتی اور مذہبی اقدار کی خلاف ورزی سمجھ کر اس کی سخت مذمت کر رہا ہے۔

یہ معاملہ پاکستان میں میڈیا اور ثقافت کے مابین جاری بحث کا حصہ بھی ہے، جہاں روایتی اقدار اور جدید تخلیقی رجحانات کے درمیان تصادم دکھائی دیتا ہے۔ اب عدالت کی جانب سے اس پر کیا فیصلہ آتا ہے، اس سے نہ صرف “لازوال عشق” کے مستقبل کا تعین ہوگا بلکہ پاکستان میں ڈرامہ انڈسٹری کی سمت بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ اس کیس پر عوام اور ماہرین کی رائے میں بھی واضح تقسیم ہے، جو اس حساس موضوع کی پیچیدگی کو ظاہر کرتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں