خیبر پختونخوا میں اس وقت آٹے کا بحران خطرناک حد تک شدت اختیار کر چکا ہے، جس کی بنیادی وجہ صوبے کی فلور ملوں کو درپیش گندم کی شدید قلت ہے۔ اطلاعات کے مطابق خیبر پختونخوا کی تقریباً 90 فیصد فلور ملیں بند ہو چکی ہیں، کیونکہ ان کے پاس گندم ختم ہو چکی ہے اور پنجاب سے گندم کی ترسیل پر پابندی عائد ہے۔
فلور مل مالکان کا کہنا ہے کہ صوبے کی اپنی گندم کی پیداوار بہت محدود ہے، اور کے پی کی فلور ملیں ہر سال گندم کی ایک بڑی مقدار پنجاب سے منگواتی ہیں۔ تاہم اس بار پنجاب حکومت نے بین الصوبائی ترسیل پر سختی سے پابندی لگا دی ہے، جس کی وجہ سے خیبر پختونخوا میں آٹا بنانے کے لیے گندم دستیاب نہیں ہو رہی۔
اس صورتحال کا براہ راست اثر مارکیٹ پر پڑا ہے، جہاں آٹے کی قیمتیں بے قابو ہو چکی ہیں۔ 20 کلو آٹے کا تھیلا جو چند ہفتے پہلے 1600 روپے میں دستیاب تھا، اب بعض علاقوں میں 2800 سے 3000 روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔ کئی شہروں میں تو آٹا مارکیٹ سے مکمل طور پر غائب ہو چکا ہے، اور لوگ لائنوں میں لگ کر مہنگے داموں آٹا خریدنے پر مجبور ہیں۔مل مالکان کا کہنا ہے کہ اگر پابندیاں نہ ہٹائی گئیں تو باقی بچی ہوئی ملیں بھی جلد بند ہو جائیں گی، جس کے بعد صوبے بھر میں آٹے کی شدید قلت پیدا ہو جائے گی۔ انہوں نے وفاقی حکومت اور بین الصوبائی رابطہ کمیٹی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر مداخلت کرے اور گندم کی ترسیل پر عائد پابندی ختم کر کے کے پی کے عوام کو ممکنہ قحط سے بچایا جائے۔
دوسری جانب، عوامی حلقوں میں شدید بے چینی پائی جا رہی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ روزمرہ کی اشیائے خوردونوش پہلے ہی مہنگی ہیں، اب آٹے جیسی بنیادی ضرورت کی چیز کی قیمت بھی ان کی پہنچ سے باہر ہو رہی ہے، جو حکومت کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
یہ بحران اس بات کی علامت ہے کہ صوبوں کے درمیان تعاون کی کمی اور پالیسی کے غیر مؤثر نفاذ سے عام آدمی براہِ راست متاثر ہوتا ہے۔ اگر بروقت قدم نہ اٹھایا گیا تو نہ صرف آٹے کا بحران شدت اختیار کرے گا بلکہ اس کے نتیجے میں مہنگائی اور بے چینی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔







