آئل ٹینکرز کی ہڑتال کی دھمکی سے پیٹرول بحران کا خطرہ منڈلانے لگا

ملک بھر میں پیٹرول بحران کا خدشہ اس وقت شدید ہو گیا ہے جب آئل ٹینکر کنٹریکٹرز نے حکومت کو ہڑتال کی دھمکی دے دی ہے۔ آئل ٹینکرز ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ ان کے مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو وہ ملک بھر میں تیل کی ترسیل معطل کر دیں گے۔ اس دھمکی کے باعث عوام میں بے چینی پھیل گئی ہے، کیونکہ اگر ٹینکروں کی سپلائی رک گئی تو پیٹرول پمپس پر ایندھن کی قلت پیدا ہو سکتی ہے، جو ملک گیر بحران کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔

رپورٹس کے مطابق سندھ اور پنجاب کے درمیان تقریباً 800 سے زائد آئل ٹینکر احتجاج یا راستے بند ہونے کی وجہ سے پھنسے ہوئے ہیں، جس کے باعث پیٹرول اور ڈیزل کی ترسیل متاثر ہو رہی ہے۔ ماضی میں ایسی ہڑتالوں کے دوران ملک کے کئی بڑے شہروں میں پیٹرول پمپس بند ہو چکے ہیں اور لوگوں کو طویل قطاروں میں لگ کر ایندھن حاصل کرنا پڑا۔

اگر حکومت اور آئل ٹینکرز ایسوسی ایشن کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت نہ ہوئی تو آنے والے دنوں میں نہ صرف ٹرانسپورٹ کا نظام متاثر ہوگا بلکہ بجلی گھروں، صنعتی اداروں اور دیگر اہم شعبوں کو بھی شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔ عوام سے اپیل کی جا رہی ہے کہ وہ افواہوں پر یقین نہ کریں، لیکن حالات کے پیش نظر کئی شہری پہلے ہی پیٹرول ذخیرہ کرنا شروع کر چکے ہیں، جس سے سپلائی مزید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں