پاکستان کے معروف رئیل اسٹیٹ ٹائیکون ملک ریاض اور ان کے خاندان کے خلاف قانونی کارروائیاں شدت اختیار کر گئی ہیں۔ قومی احتساب بیورو (نیب) نے ملک بھر میں ملک ریاض کی مختلف تجارتی اور رہائشی جائیدادوں کو سیل کر دیا ہے، جن میں کراچی، لاہور، اسلام آباد، راولپنڈی اور نیو مری کی جائیدادیں شامل ہیں۔ نیب کے مطابق ملک ریاض پر غیر قانونی قبضہ، جعلی ہاؤسنگ سوسائٹیز قائم کرنے اور عوامی پیسہ ہڑپ کرنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
اس کے علاوہ، ملک ریاض اور ان کے بیٹے احمد علی ریاض پر برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی (NCA) کی جانب سے بھی مالی بدعنوانی کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ برطانوی حکام نے 190 ملین پاؤنڈ کی بدعنوانی کے کیس میں ان کے ویزے منسوخ کر دیے ہیں، جس میں الزام ہے کہ حاصل شدہ رقم قومی خزانے میں جمع کروانے کی بجائے نجی کمپنیوں کی مالی معاونت میں استعمال کی گئی۔پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے ملک ریاض کی متحدہ عرب امارات سے حوالگی کے لیے بھی اقدامات کا عندیہ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیب کی طرف سے دائر ریفرنسز کی بنیاد پر ملک ریاض اور ان کے بیٹے کی گرفتاری کے لیے بین الاقوامی سطح پر کوششیں جاری ہیں۔
یہ تمام پیش رفت ملک ریاض کے مالی و قانونی مسائل میں اضافے کی نشاندہی کرتی ہے اور ظاہر کرتی ہے کہ طاقتور افراد بھی قانون کی گرفت سے باہر نہیں۔ ملک ریاض کے خلاف یہ کیسز اس بات کا ثبوت ہیں کہ احتساب کا عمل ہر کسی کے لیے برابر ہے اور قانون کے سامنے سب یکساں ہیں۔







