فرسٹ ایئر کے نتائج مایوس کن، 46 فیصد طلبہ پاسنگ مارکس بھی حاصل نہ کر سکے

حال ہی میں سامنے آنے والے فرسٹ ایئر کے نتائج نے تعلیم کے شعبے میں سنگین مسائل کی نشاندہی کی ہے، جن کے مطابق 46 فیصد سے زائد طلبہ ایسے ہیں جو پاسنگ مارکس (33 فیصد) بھی حاصل نہ کر سکے۔ یہ صورتحال نہ صرف طلبہ کی تعلیمی کارکردگی پر سوال اٹھاتی ہے بلکہ پورے تعلیمی نظام کی کمزوری کو بھی بے نقاب کرتی ہے۔ تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس ناکامی کی کئی وجوہات ہیں جن میں آن لائن تعلیم کا غیر مؤثر ہونا، اساتذہ کی کمی، نصاب کا بوجھ، اور امتحانی نظام کی خامیاں شامل ہیں۔ طلبہ کو اکثر صرف رٹہ لگانے کی ترغیب دی جاتی ہے، جس کے باعث وہ حقیقی فہم و ادراک حاصل نہیں کر پاتے۔ دوسری طرف، والدین اور اساتذہ کی جانب سے بھی طلبہ کی رہنمائی اور نفسیاتی تعاون کا فقدان نظر آتا ہے، جو ان کی تعلیمی کارکردگی پر منفی اثر ڈال رہا ہے۔ موجودہ صورتِ حال اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ حکومت اور تعلیمی ادارے فوری طور پر اصلاحی اقدامات کریں، تاکہ آئندہ نسل کو ایک بہتر، بامعنی اور قابلِ اعتماد تعلیمی ماحول فراہم کیا جا سکے۔ اگر یہی روش برقرار رہی تو طلبہ کی تعداد میں ناکامی کا یہ رجحان بڑھتا جائے گا اور ملک کا تعلیمی مستقبل مزید خطرے میں پڑ سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں