سعودی عرب نے حالیہ برسوں میں عمرہ ویزا پالیسی میں نمایاں تبدیلیاں کرتے ہوئے زائرین کے لیے کئی آسانیاں پیدا کی ہیں، خاص طور پر اُن افراد کے لیے جو کسی اور مقصد کے تحت سعودی عرب آتے ہیں لیکن عمرہ ادا کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ ماضی میں صرف عمرہ ویزا رکھنے والے افراد کو ہی مسجد الحرام میں داخل ہو کر عمرہ ادا کرنے کی اجازت ہوتی تھی، لیکن اب سعودی وزارتِ حج و عمرہ نے اس پالیسی میں نرمی کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ جن افراد کے پاس سعودی عرب کا کوئی بھی درست ویزا ہو — جیسا کہ ٹورسٹ ویزا، بزنس ویزا، فیملی وزٹ ویزا، ٹرانزٹ ویزا یا ورک ویزا — وہ بھی عمرہ ادا کر سکتے ہیں، بشرطیکہ وہ متعلقہ اجازت نامہ حاصل کریں۔
یہ اجازت نامہ نُسُک (Nusuk) ایپ کے ذریعے حاصل کیا جاتا ہے، جو سعودی حکومت کا سرکاری پلیٹ فارم ہے اور عمرہ یا زیارت سے متعلق تمام معاملات کو منظم کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ نُسُک ایپ پر رجسٹریشن کے بعد عمرہ کی تاریخ، وقت، اور دیگر تفصیلات کے مطابق اجازت لی جا سکتی ہے۔ یہ اجازت اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ مسجد الحرام میں ہجوم قابو میں رہے اور زائرین کے لیے عبادت کے ماحول کو منظم رکھا جا سکے۔
مزید یہ کہ سعودی حکومت نے شرط عائد کی ہے کہ عمرہ پر آنے والے افراد کو اپنی ہوٹل کی بکنگ، ٹرانسپورٹ اور دیگر سہولیات صرف منظور شدہ ایجنٹس اور پلیٹ فارمز سے کرنی ہوں گی، تاکہ جعلسازی اور غیر منظم سفر سے بچا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ، بعض اوقات عمرہ کرنے کی اجازت مقامی حالات جیسے ہجوم، ایونٹس یا وبائی صورتحال کی بنیاد پر مشروط بھی ہو سکتی ہے۔
یہ اقدام خاص طور پر اُن غیر ملکیوں کے لیے فائدہ مند ہے جو سعودی عرب میں کسی اور مقصد سے موجود ہوتے ہیں، مثلاً کاروبار یا رشتہ داروں سے ملاقات، اور وہ موقع پا کر عمرہ کی سعادت حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اس نئی پالیسی سے نہ صرف زائرین کے لیے سہولت پیدا ہوئی ہے بلکہ سعودی عرب کی سیاحت اور مذہبی خدمات کی صنعت میں بھی مثبت اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔







