پاکستان نے استعمال شدہ کپڑوں کی درآمد پر فی کلو 200 روپے ٹیکس عائد کر دیا

حکومت پاکستان نے حال ہی میں استعمال شدہ ملبوسات کی درآمد پر فی کلوگرام 200 روپے کا نیا ٹیکس عائد کرنے کا اعلان کیا ہے، جو پہلے لگائی جانے والی 36 روپے کی ڈیوٹی کے مقابلے میں کافی زیادہ ہے۔ اس اقدام کا مقصد ملکی صنعت کو تحفظ فراہم کرنا اور غیر رسمی اور غیر منظم درآمدات پر قابو پانا بتایا جا رہا ہے۔ پاکستان میں استعمال شدہ ملبوسات کی درآمدات گزشتہ چند سالوں میں تیزی سے بڑھیں ہیں اور مالی سال 2024-25 میں یہ تقریباً 511 ملین ڈالر تک پہنچ گئی ہیں، جو کہ اس کی بڑھتی ہوئی طلب اور غربت کی وجہ سے ہے۔ استعمال شدہ کپڑوں کی درآمد پر نئے ٹیکس کے نفاذ سے اس سیکٹر میں شامل تاجروں اور صارفین دونوں کو سخت مالی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

تاجروں کا کہنا ہے کہ اس ٹیکس کی وجہ سے لنڈا بازاروں میں ملبوسات کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوگا، جو غریب اور متوسط طبقے کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے کیونکہ یہ طبقہ زیادہ تر اسی طرح کے استعمال شدہ کپڑے خرید کر اپنی ضروریات پوری کرتا ہے۔ لنڈا بازار، جو کہ سستی اور معیاری ملبوسات فراہم کرتے ہیں، ان پر اس طرح کے اضافی ٹیکس کا اثر براہ راست عام آدمی کی جیب پر پڑے گا۔ اس کے علاوہ، مہنگائی میں اضافے کے اس دور میں اس قسم کے ٹیکس عوام کی خریداری کی قوت کو مزید متاثر کر سکتے ہیں۔ حکومت کی کوشش ہے کہ ملکی صنعت کو تحفظ ملے اور درآمدات پر انحصار کم کیا جائے، لیکن ساتھ ہی ضروری ہے کہ کم آمدنی والے طبقے کی سہولت کا بھی خیال رکھا جائے تاکہ وہ اپنی روزمرہ کی ضروریات پوری کر سکیں۔

ماہرین معاشیات کا مشورہ ہے کہ اس ٹیکس کا نفاذ اس وقت ہونا چاہیے جب مقامی صنعت مضبوط ہو اور استعمال شدہ ملبوسات کی بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کیا جا سکے۔ مزید برآں، حکومتی پالیسیاں ایسی ہونی چاہئیں جو درآمدات اور مقامی پیداوار کے درمیان توازن قائم رکھیں تاکہ معاشی استحکام ممکن ہو سکے۔ اس کے علاوہ، صارفین کی سہولت کے لیے متبادل سستے اور معیاری ملبوسات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے حکومتی سطح پر اقدامات کرنا ناگزیر ہیں۔ مجموعی طور پر، یہ فیصلہ پاکستان کی معیشت اور عوام کی ضروریات کے تناظر میں ایک پیچیدہ مسئلہ ہے، جسے احتیاط اور حکمت عملی سے سنبھالنے کی ضرورت ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں