پاکستان اور امریکہ کے درمیان تاریخی تجارتی معاہدے پر دستخط

پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات کا ایک اہم باب جولائی 2025 میں ایک تاریخی تجارتی معاہدے کے دستخط کے ساتھ کھلا، جس نے دونوں ملکوں کے باہمی تعاون کو نئی بلندیوں تک لے جانے کا راستہ ہموار کیا۔ یہ معاہدہ نہ صرف دو طرفہ تجارت کو فروغ دینے کا عزم ظاہر کرتا ہے بلکہ سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی، توانائی، معدنیات اور کرپٹو کرنسی جیسے جدید اور ابھرتے ہوئے شعبوں میں بھی تعاون کے مواقع فراہم کرتا ہے۔

معاہدے کے تحت امریکہ نے پاکستان کو جنوبی ایشیا میں سب سے کم، یعنی صرف 19 فیصد ٹیرف ریٹ فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے، جو پاکستانی مصنوعات کو امریکی منڈیوں میں زیادہ مسابقتی بنائے گا اور پاکستانی برآمدات میں نمایاں اضافہ کا سبب بنے گا۔ اس سے پاکستان کی معیشت کو فائدہ پہنچے گا، روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی تعلقات میں گہرائی آئے گی۔یہ نیا معاہدہ دراصل پاکستان اور امریکہ کے تاریخی تعلقات کی بنیاد پر استوار ہے، جس کا آغاز 1959 میں ہوا جب دونوں ملکوں نے “دوستی و تجارت” کا پہلا معاہدہ دستخط کیا تھا۔ اس معاہدے نے اقتصادی اور ثقافتی تعلقات کو مضبوط کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ موجودہ معاہدہ اسی روایات کو آگے بڑھاتے ہوئے بدلتے ہوئے عالمی حالات میں دو طرفہ تعاون کو مزید مستحکم کرنے کی کوشش ہے۔

مزید برآں، یہ معاہدہ خطے میں استحکام اور ترقی کے لیے بھی اہم سمجھا جا رہا ہے کیونکہ اس سے صرف دو ملکوں کے اقتصادی تعلقات ہی نہیں بلکہ جنوبی ایشیا کی معاشی تصویر بھی مثبت طور پر متاثر ہو گی۔ اس تعاون کے ذریعے دونوں ممالک نہ صرف اپنی تجارتی معیشت کو مضبوط کریں گے بلکہ عالمی منڈیوں میں بھی اپنی حیثیت بہتر بنانے کے لیے ایک دوسرے کا سہارا بنیں گے۔

نتیجتاً، یہ معاہدہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان دوستی اور شراکت داری کی ایک نئی مثال قائم کرتا ہے، جو مستقبل میں دونوں ملکوں کے سیاسی، اقتصادی اور ثقافتی تعلقات کو مزید فروغ دینے کا باعث بنے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں