کفن پہنایا، قبر دی… مگر مردہ خود عدالت پہنچ گیا

دنیا حیرتوں سے خالی نہیں، مگر کچھ واقعات ایسے ہوتے ہیں جو حقیقت میں فکشن سے بھی زیادہ عجیب محسوس ہوتے ہیں۔ ایسا ہی ایک حیران کن واقعہ برازیل میں پیش آیا، جس میں ایک شخص کو قانونی طور پر مردہ قرار دے دیا گیا، اس کا جنازہ ہوا، تدفین بھی ہو گئی — لیکن چند دن بعد وہ زندہ سلامت خود عدالت میں پیش ہو گیا!

یہ سب اُس وقت شروع ہوا جب پولیس کو ایک لاوارث لاش ملی، جس کی شناخت نہ ہو سکی۔ چہرے کے خد و خال اور کپڑوں کی بنیاد پر پولیس نے اندازہ لگایا کہ یہ فلاں شخص ہے، جس کی گمشدگی کی رپورٹ کچھ دن پہلے درج کروائی گئی تھی۔ اطلاع ملنے پر اُس شخص کے اہلِ خانہ کو بلایا گیا، جنہوں نے جذباتی حالت میں لاش کی شناخت کر لی، اور بغیر مزید تصدیق کے اسے دفنا دیا۔سب کچھ عام معمول کے مطابق لگ رہا تھا — مگر چند دن بعد، ’’مردہ‘‘ قرار دیا گیا شخص زندہ سلامت ایک عدالت میں پیش ہوا۔ وہ نہ صرف زندہ تھا بلکہ پولیس اور عدالت سے شکایت کرنے آیا تھا کہ اسے مردہ قرار دے کر اس کی شناختی دستاویزات بند کر دی گئی ہیں، اور اب وہ قانونی طور پر ایک “مرحوم” شمار ہو رہا ہے۔

عدالت میں یہ ایک ناقابلِ یقین منظر تھا۔ سب حیرت زدہ تھے کہ جس شخص کا باقاعدہ جنازہ ہو چکا، قبر میں دفن بھی کیا جا چکا، وہ کیسے زندہ عدالت میں کھڑا ہے؟ بعد میں تحقیقات سے پتا چلا کہ لاش دراصل کسی اور شخص کی تھی، اور شناختی عمل میں سنگین کوتاہی کی گئی تھی۔

یہ واقعہ نہ صرف حیرت انگیز ہے، بلکہ نظام کی ایک بڑی خامی کو بھی بے نقاب کرتا ہے۔ صرف ظاہری شباہت پر کسی کو مردہ قرار دینا اور قانونی طور پر اس کی موت کا اندراج کر دینا — یہ ایک ایسا عمل ہے جو کسی بھی زندہ انسان کی زندگی کو مکمل طور پر برباد کر سکتا ہے۔
مذکورہ شخص کو دوبارہ زندہ قرار دلوانے کے لیے طویل عدالتی کارروائی سے گزرنا پڑا، نئی دستاویزات جاری کرانی پڑیں، اور اپنی شناخت دوبارہ ثابت کرنا پڑی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں