پاکستانی نژاد ہوم کوک سونیا عمران نے یو کے نیشنل کری ویک کُک آف 2025 جیت لیا

پاکستانی نژاد گھریلو شیف سونیا عمران نے اپنی غیر معمولی صلاحیت اور محنت کے ذریعے برطانیہ میں منعقد ہونے والے “یو کے نیشنل کری ویک کُک آف 2025” میں نمایاں کامیابی حاصل کر کے پاکستان کا نام بین الاقوامی سطح پر روشن کر دیا۔ یہ مقابلہ لندن کے مشہور علاقے کوونٹ گارڈن (Covent Garden) میں منعقد ہوا، جس میں برطانیہ بھر سے چھ بہترین گھریلو شیفز نے حصہ لیا۔ مقابلہ پانچ مرحلوں پر مشتمل تھا، جن میں ذائقے، پیشکش، جدت، اور ثقافتی نمائندگی کے پہلوؤں کو جانچا گیا۔ سونیا عمران نے اپنی محنت، تخلیقی صلاحیت اور پاکستانی روایتی ذائقوں کے امتزاج سے ججز کو متاثر کیا اور پانچ میں سے چار راؤنڈز میں برتری حاصل کرتے ہوئے فائنل میں کامیابی اپنے نام کی۔

ججز نے سونیا کے کھانوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ان کے پکوانوں میں “روح، ورثہ اور جدید ذائقوں کی ہم آہنگی” نمایاں تھی۔ انہوں نے پاکستانی مصالحوں، دیسی ترکیبوں اور جدید برطانوی پیشکش کو اس انداز میں یکجا کیا کہ ان کے کھانے نہ صرف ذائقے میں منفرد تھے بلکہ ثقافتی لحاظ سے بھی قابلِ تعریف قرار پائے۔ سونیا عمران نے جیت کے بعد ایک متاثر کن قدم اٹھاتے ہوئے اپنی کامیابی کے انعام کے طور پر ملنے والی £1,000 (ایک ہزار پاؤنڈ) کی رقم لندن کے مشہور گریٹ اورمنڈ اسٹریٹ ہسپتال کو عطیہ کر دی۔ اس عمل نے ان کی شخصیت میں موجود دردمندی اور سماجی خدمت کے جذبے کو اجاگر کیا۔

سونیا عمران کا تعلق لاہور سے ہے جہاں انہوں نے ایک ایسے خاندانی ماحول میں پرورش پائی جہاں اچھے کھانوں، محفلوں اور خاندانی میل جول کو خصوصی اہمیت دی جاتی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ “کھانا صرف پیٹ بھرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ یہ لوگوں کے درمیان محبت اور تعلق قائم کرنے کا ایک پل ہے۔” سونیا کا یہ یقین ان کے پکوانوں میں جھلکتا ہے، جو ذائقے کے ساتھ ساتھ ایک جذباتی اور ثقافتی ربط بھی رکھتے ہیں۔

ان کی یہ کامیابی نہ صرف ان کی ذاتی محنت اور ہنر کا نتیجہ ہے بلکہ پاکستان کے ذائقوں، خواتین کی صلاحیتوں اور جنوبی ایشیائی کھانوں کی عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی پذیرائی کی علامت بھی ہے۔ سونیا عمران کی یہ جیت اس بات کا ثبوت ہے کہ گھریلو خواتین بھی اگر اپنے شوق، تخلیقی سوچ اور محنت کے ساتھ آگے بڑھیں تو وہ بین الاقوامی مقابلوں میں نمایاں مقام حاصل کر سکتی ہیں۔ مستقبل میں توقع ہے کہ سونیا عمران اپنے کھانوں کو مزید وسیع پیمانے پر متعارف کروانے کے لیے اپنا یوٹیوب چینل یا کھانے کا برانڈ لانچ کریں گی، تاکہ دنیا بھر کے لوگ پاکستانی ذائقوں سے لطف اندوز ہو سکیں۔ ان کی کامیابی پاکستان کے لیے فخر اور نئی نسل کے لیے تحریک کا ذریعہ بن گئی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں