لاہور ہائی کورٹ: غیر قانونی سمز سکیورٹی کے لیے خطرہ، رپورٹ فوری طور پر پیش کی جائے

لاہور ہائی کورٹ نے ملک میں بڑھتی ہوئی غیر قانونی اور جعلی سمز کے استعمال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ معاملہ نہ صرف شہریوں کی پرائیویسی کے لیے خطرناک ہے بلکہ قومی سلامتی پر بھی منفی اثر ڈال رہا ہے۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ غیر قانونی سمز کی وجہ سے جرائم کی شرح میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جن میں فراڈ، بلیک میلنگ، اور دہشت گردی کے نیٹ ورک سے رابطے جیسے سنگین معاملات شامل ہیں۔

عدالت نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے)، وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) اور وزارتِ داخلہ کو ہدایت دی کہ وہ فوری طور پر اس حوالے سے ایک جامع رپورٹ جمع کروائیں جس میں بتایا جائے کہ اب تک غیر قانونی سمز کے خاتمے کے لیے کیا اقدامات کیے گئے ہیں، کتنی سمز بند کی گئی ہیں اور مستقبل میں اس مسئلے کو مستقل طور پر حل کرنے کا کیا منصوبہ ہے۔

عدالت نے یہ بھی نشاندہی کی کہ بایومیٹرک نظام کے باوجود جعلی سمز کا اجراء ایک سنگین انتظامی ناکامی کو ظاہر کرتا ہے۔ عدالت نے متعلقہ حکام کو متنبہ کیا کہ اگر اس مسئلے پر سنجیدہ کارروائی نہ کی گئی تو ذمہ دار اداروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

ذرائع کے مطابق، عدالت نے آئندہ سماعت پر تمام متعلقہ اداروں کو اپنی پیش رفت رپورٹ کے ساتھ پیش ہونے کی ہدایت کی ہے تاکہ اس اہم قومی مسئلے کے حل کے لیے مؤثر حکمتِ عملی ترتیب دی جا سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں