سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک اہم اور تاریخی فیصلے میں قرار دیا ہے کہ شادی شدہ زندگی میں نفسیاتی یا ذہنی اذیت دینا، جسمانی تشدد کے برابر جرم ہے۔ عدالت نے کہا کہ ازدواجی تعلقات میں کسی فریق کی جانب سے دوسرے فریق کو مسلسل ذہنی دباؤ، خوف، بے عزتی یا نفسیاتی اذیت دینا، اس کے بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے اور قانون ایسے رویوں کو برداشت نہیں کر سکتا۔
عدالتِ عظمیٰ نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ گھریلو تشدد صرف جسمانی تشدد تک محدود نہیں، بلکہ ذہنی اذیت، خوف اور تحقیر بھی تشدد کی ہی شکلیں ہیں۔ فیصلے میں کہا گیا کہ کئی کیسز میں متاثرہ فریق کو جسمانی زخم تو نظر نہیں آتے، مگر نفسیاتی دباؤ اور ذہنی اذیت کے اثرات زندگی بھر قائم رہتے ہیں، جو متاثرہ شخص کی شخصیت، اعتماد اور ذہنی صحت کو تباہ کر دیتے ہیں۔
عدالت نے حکومت کو ہدایت کی کہ وہ گھریلو تشدد سے متعلق قوانین میں نفسیاتی اذیت کو واضح طور پر شامل کرے اور عوام میں اس حوالے سے آگاہی مہم چلائے تاکہ ایسے جرائم کو روکا جا سکے۔ سپریم کورٹ نے مزید کہا کہ شادی ایک ایسا رشتہ ہے جو محبت، احترام اور اعتماد پر قائم ہوتا ہے، اور اگر اس میں خوف، دباؤ یا ذلت شامل ہو جائے تو یہ نہ صرف رشتہ بلکہ انسانیت کی توہین ہے۔
ماہرینِ قانون اور انسانی حقوق کے کارکنان نے سپریم کورٹ کے اس فیصلے کو خواتین کے حقوق اور گھریلو تشدد کے خلاف جدوجہد میں ایک سنگِ میل قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ معاشرتی سطح پر رویوں میں تبدیلی لانے اور ازدواجی رشتوں میں باہمی احترام کے فروغ میں اہم کردار ادا کرے گا۔







