گھر صرف ایک جگہ نہیں ہوتا — یہ احساس، محبت، قربانی اور باہمی تعاون کا نام ہے۔ لیکن افسوس کہ ہمارے معاشرے میں آج بھی اکثر گھروں میں یہ سوچ موجود ہے کہ گھر کا سارا بوجھ عورت کے کندھوں پر ڈال دینا ہی فطری اور درست عمل ہے۔ صبح سے شام تک وہ گھر کے کام سنبھالتی ہے، کھانا بناتی ہے، بچوں کی تربیت کرتی ہے، بزرگوں کی خدمت کرتی ہے، اور اگر وہ ملازمت پیشہ ہے تو باہر جا کر کام بھی کرتی ہے۔ پھر بھی اکثر اسے یہ سننے کو ملتا ہے کہ “یہ تو عورت کا فرض ہے۔”
ایسا رویہ دراصل ذمہ داریوں کی غیر منصفانہ تقسیم کی علامت ہے، جو نہ صرف عورت کو جسمانی طور پر تھکا دیتا ہے بلکہ ذہنی طور پر بھی دباؤ میں مبتلا کر دیتا ہے۔ کئی تحقیقات کے مطابق عورتوں میں پیدا ہونے والا زیادہ تر Stress اسی وجہ سے ہوتا ہے کہ وہ خود کو اکیلا محسوس کرتی ہیں — جیسے پورے گھر کی بنیاد صرف انہی پر ہو۔
اگر ہم تھوڑی دیر کو سوچیں تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے: کیا گھر صرف عورت کا ہے؟ کیا ایک مرد کی کوئی ذمہ داری نہیں بنتی؟ اگر مرد گھر کے کاموں میں حصہ لے، بچوں کے ساتھ وقت گزارے، کھانے کی تیاری میں مدد کرے یا صرف اتنا کہہ دے کہ “آج تم آرام کرو، میں سب دیکھ لوں گا” — تو یہ چھوٹے چھوٹے عمل عورت کے دل میں احساسِ احترام اور محبت کو بڑھا دیتے ہیں۔
دنیا کے ترقی یافتہ معاشروں میں اب یہ نظریہ مضبوط ہو چکا ہے کہ گھر ایک مشترکہ ذمہ داری ہے۔ دونوں شریکِ حیات جب مل کر گھر سنبھالتے ہیں تو رشتے میں توازن، اعتماد اور سکون پیدا ہوتا ہے۔ ایسے گھر میں نہ عورت تھکتی ہے، نہ مرد اکتاتا ہے، بلکہ دونوں ایک دوسرے کی قدر اور احساس کو بہتر طور پر سمجھتے ہیں۔
آخر میں یہی کہنا درست ہوگا کہ خوشحال گھر وہ نہیں جہاں عورت اکیلی سب کچھ سنبھالے، بلکہ وہ ہے جہاں دونوں مل کر ذمہ داریاں نبھائیں۔ گھر اس وقت جنت بنتا ہے جب محبت کے ساتھ “برابری” بھی شامل ہو۔ کیونکہ گھر دیواروں سے نہیں، احساسات سے بنتا ہے — اور احساس تب ہی مکمل ہوتا ہے جب دونوں ایک دوسرے کا ہاتھ تھامیں۔







