پنجاب حکومت نے 15 نومبر 2025 سے صوبے بھر میں ایسی تمام گاڑیوں کو سڑکوں سے ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے جو “گرین اسٹیکر” حاصل نہیں کریں گی۔ یہ سخت فیصلہ ماحولیاتی آلودگی، خصوصاً شہروں میں سموگ اور ہوا کی خرابی کو کم کرنے کے لیے کیا گیا ہے، تاکہ شہریوں کی صحت کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ پنجاب ماحولیاتی تحفظ ایجنسی (EPA) کے مطابق، اب صرف وہی گاڑیاں سڑکوں پر قانونی طور پر چل سکیں گی جو ایگزاسٹ ٹیسٹنگ سسٹم (ETS) سے منظور شدہ ہوں اور جن پر گرین اسٹیکر لگایا گیا ہو۔ یہ پالیسی یکم ستمبر 2025 سے نافذ کی گئی تھی، اور اس کے مطابق 31 اگست 2025 کے بعد کوئی بھی گاڑی بغیر گرین اسٹیکر کے سڑکوں پر نہیں چل سکتی۔
پالیسی کے تحت گاڑیوں کی عمر اور ماڈل کے لحاظ سے ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں، جس میں 2010 سے 2015 کے درمیان تیار ہونے والی گاڑیاں پہلے مرحلے میں شامل ہیں۔ اگر کسی گاڑی نے ETS سرٹیفیکیشن حاصل نہیں کی تو اسے ضبطی اور قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس کے علاوہ، شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ فوری طور پر اپنی گاڑیوں کا ایگزاسٹ اور شور ٹیسٹ کروائیں تاکہ گرین اسٹیکر حاصل کر سکیں اور سڑکوں پر قانونی طور پر چل سکیں۔
اس اقدام کا مقصد نہ صرف ماحولیاتی آلودگی میں کمی لانا ہے بلکہ شہریوں کو ماحولیاتی طور پر ذمہ دار ٹرانسپورٹ استعمال کرنے کی ترغیب دینا بھی ہے۔ حکومت کا خیال ہے کہ گرین اسٹیکر کے بغیر گاڑیوں کو سڑکوں پر چلنے سے روکنے سے ہوا کے معیار میں بہتری آئے گی، شہریوں کی صحت بہتر ہوگی، اور ماحول دوست ٹرانسپورٹ کے استعمال کو فروغ ملے گا۔ اس پالیسی کے ذریعے گاڑیوں کے مالکان کو اپنی گاڑیوں کی ماحولیاتی کارکردگی بہتر بنانے اور قانونی ذمہ داری پوری کرنے کی ترغیب دی جا رہی ہے تاکہ صوبے میں صاف اور صحت مند ماحول قائم کیا جا سکے۔







