ایمازون کا بڑا قدم — عالمی سطح پر 30 ہزار کارپوریٹ ملازمین فارغ کرنے کا منصوبہ

ایمازون، جو دنیا کی سب سے بڑی آن لائن کمپنیوں میں سے ایک ہے، نے حال ہی میں اعلان کیا ہے کہ وہ اپنی تاریخ کی سب سے بڑی کارپوریٹ چھانٹی کرنے جا رہی ہے۔ کمپنی کے ذرائع کے مطابق، ایمازون دنیا بھر میں تقریباً 30 ہزار کارپوریٹ نوکریاں ختم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، جن میں سے 14 ہزار ملازمین کو فارغ کرنے کا باضابطہ اعلان کر دیا گیا ہے۔ یہ فیصلے کمپنی کے مختلف شعبوں جیسے ہیومن ریسورسز، آپریشنز، ڈیوائسز اینڈ سروسز، اور ایمازون ویب سروسز (AWS) میں کیے جا رہے ہیں۔
ایمازون نے اس اقدام کی وجہ مصنوعی ذہانت (AI) کے بڑھتے استعمال، اخراجات میں کمی اور کارکردگی میں بہتری کو قرار دیا ہے۔ کمپنی کے مطابق، اب زیادہ تر کام خودکار نظاموں کے ذریعے انجام دیے جا رہے ہیں، جس سے انسانی عملے کی ضرورت کم ہو گئی ہے۔ مزید یہ کہ، عالمی معیشت کی سست رفتاری اور مارکیٹ میں مسابقت نے بھی کمپنی کو اپنے آپریشنز کو زیادہ مؤثر اور کم خرچ بنانے پر مجبور کیا ہے۔
یہ فیصلہ اس وقت آیا ہے جب ایمازون نے کووڈ وبا کے دوران تیزی سے اپنی افرادی قوت بڑھائی تھی تاکہ آن لائن خریداری کے بڑھتے رجحان سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔ لیکن اب جب مارکیٹ معمول پر آ چکی ہے، کمپنی کو اپنے اخراجات کم کرنے کی ضرورت پیش آئی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ صرف ایمازون کا نہیں بلکہ پورے ٹیکنالوجی سیکٹر کا رجحان بن چکا ہے، جہاں بڑی کمپنیاں مصنوعی ذہانت اور خودکار نظاموں کے باعث ہزاروں ملازمین کو فارغ کر رہی ہیں۔ اگرچہ ایمازون کے 15 لاکھ سے زائد کل ملازمین میں سے 30 ہزار کا عدد بظاہر کم لگتا ہے، لیکن اس کے نفسیاتی اور معاشی اثرات عالمی سطح پر ضرور محسوس کیے جائیں گے — خاص طور پر ان ممالک میں جہاں ایمازون کے بڑے دفاتر اور ٹیکنالوجی مراکز قائم ہیں۔
یہ چھانٹیاں نہ صرف روزگار کے مواقع پر اثر ڈالیں گی بلکہ دنیا بھر میں ٹیک کمپنیوں کے مستقبل کے حوالے سے خدشات اور غیر یقینی صورتحال کو بھی جنم دیں گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں