پاکستان کی معروف اداکارہ صبا قمر نے حال ہی میں ایک انٹرویو میں انکشاف کیا ہے کہ زِیادتی کا شکار لڑکی کا کردار ادا کرنا اُن کے لیے نہایت ذہنی طور پر تکلیف دہ اور جذباتی طور پر تھکا دینے والا تجربہ تھا۔ ان کے مطابق، اس کردار نے اُن کی ذہنی صحت کو گہرائی سے متاثر کیا، کیونکہ انہیں ایک ایسے کردار میں خود کو ڈھالنا پڑا جو مسلسل صدمے، خوف، شرمندگی اور معاشرتی دباؤ کا شکار ہے۔
صبا قمر نے بتایا کہ کردار کی تیاری کے دوران انہوں نے حقیقی متاثرہ خواتین کی کہانیاں پڑھیں اور ان کے جذبات کو سمجھنے کی کوشش کی، جس نے اُن پر گہرا نفسیاتی اثر ڈالا۔ انہوں نے کہا کہ جب آپ ایسے کردار میں جاتے ہیں جس کا تعلق حقیقی انسانی درد اور ظلم سے ہو، تو اس سے باہر نکلنا آسان نہیں ہوتا۔ شوٹنگ مکمل ہونے کے بعد بھی وہ کئی دنوں تک ذہنی دباؤ اور بے چینی کا شکار رہیں۔
اداکارہ نے اس موقع پر فلمی اور ڈرامہ انڈسٹری کے لیے ایک اہم نکتہ اُٹھایا کہ ایسے حساس موضوعات پر کام کرنے والے فنکاروں کے لیے نفسیاتی مدد، کونسلنگ اور جذباتی سپورٹ فراہم کی جانی چاہیے، تاکہ وہ اپنے کرداروں کے بوجھ سے صحت مند طریقے سے باہر نکل سکیں۔
صبا قمر کے مطابق، فن صرف تفریح نہیں بلکہ ایک سماجی ذمے داری بھی ہے، اور اگر اداکار سچائی سے کسی المیے کو پیش کرتے ہیں تو انہیں خود بھی اس کے نفسیاتی اثرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کردار نے انہیں یہ احساس دلایا کہ معاشرے میں زیادتی کے متاثرین کو صرف انصاف ہی نہیں بلکہ احساس، تحفظ اور نفسیاتی سہارا دینے کی بھی سخت ضرورت ہے۔
ان کے مداحوں اور ناقدین دونوں نے صبا قمر کی جرات، حقیقت پسندی اور اداکاری کے جذبے کو سراہا ہے، اور انہیں ایسے فنکاروں میں شمار کیا ہے جو محض کردار نہیں نبھاتے بلکہ سماجی شعور پیدا کرنے کا فریضہ بھی انجام دیتے ہیں۔







