سعودی عرب کی جانب سے لیونل میسی کی پیشکش کو مسترد کیے جانے کی خبر نے کھیلوں کی دنیا میں خاصی توجہ حاصل کی ہے۔ ذرائع کے مطابق میسی کی ٹیم نے سعودی حکام کو ایک تجویز دی تھی کہ وہ میجر لیگ ساکر (MLS) کے سیزن کے دوران، جب لیگ چند ماہ کے لیے رکی ہوتی ہے، سعودی پرو لیگ میں قلیل مدت کے لیے کھیلنا چاہتے ہیں۔ تاہم، سعودی وزارتِ کھیل نے اس پیشکش کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔
رپورٹس کے مطابق میسی کی تجویز مہد اسپورٹس اکیڈمی کے سی ای او عبداللہ حماد کے ذریعے سعودی وزیرِ کھیل تک پہنچی تھی، مگر حکومت نے واضح کیا کہ وہ اپنی لیگ کو صرف بین الاقوامی کھلاڑیوں کی عارضی تیاری کا پلیٹ فارم نہیں بنانا چاہتے۔ سعودی حکام کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد لیگ کو ایک مضبوط، پائیدار اور عالمی سطح پر معتبر مقابلہ بنانا ہے، نہ کہ چند مہینوں کے لیے شہرت حاصل کرنے کا ذریعہ۔
یہ فیصلہ سعودی پرو لیگ کی نئی حکمتِ عملی کو ظاہر کرتا ہے، جو اب صرف بڑے ناموں کو بلانے کے بجائے طویل مدتی منصوبوں اور مقامی کھلاڑیوں کی ترقی پر توجہ دے رہی ہے۔ ماضی میں سعودی لیگ نے کرسٹیانو رونالڈو، کریم بینزیما، اور نیمار جیسے عالمی ستاروں کو معاہدوں کے ذریعے اپنی جانب متوجہ کیا، مگر میسی کی مختصر مدتی پیشکش کو رد کرنا ظاہر کرتا ہے کہ لیگ اب مختلف سمت میں بڑھ رہی ہے۔
دوسری جانب، لیونل میسی اس وقت امریکی کلب انٹر میامی کے ساتھ کھیل رہے ہیں اور ان کی تمام توجہ 2026 کے فیفا ورلڈ کپ کی تیاریوں پر مرکوز ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ مستقبل میں سعودی عرب میسی کے ساتھ کسی طویل المدتی معاہدے پر غور کرے، لیکن فی الحال ایسا لگتا ہے کہ یہ باب بند ہو چکا ہے۔







