45: 8 سے پہلے طلبہ کو اسکول بلانے پر سخت پابندی عائد

پنجاب حکومت نے صوبے بھر میں نجی اسکولوں کے خلاف سخت کارروائی کا فیصلہ کیا ہے جو طلبہ کو مقررہ وقت صبح 8 بج کر 45 منٹ سے پہلے اسکول پہنچنے پر مجبور کر رہے ہیں۔ محکمہ تعلیم کے حکام کے مطابق متعدد والدین کی جانب سے شکایات موصول ہوئیں کہ کچھ اسکول بچوں کو بہت جلد اسکول آنے کے لیے کہتے ہیں، حتیٰ کہ بعض اوقات اسمبلی یا کلاسز 7:30 یا 8 بجے سے پہلے شروع کر دی جاتی ہیں۔

حکومت نے اس رویے کو بچوں کی ذہنی اور جسمانی صحت کے لیے نقصان دہ قرار دیا ہے، خاص طور پر سرد موسم میں جب صبح کے وقت درجہ حرارت کم ہوتا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ طلبہ کو نیند کی کمی اور تھکن کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جو ان کی تعلیمی کارکردگی پر منفی اثر ڈالتی ہے۔

محکمہ تعلیم نے تمام نجی اسکولوں کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ سرکاری احکامات پر عمل کریں، بصورتِ دیگر جرمانے، وارننگ نوٹس یا اسکول رجسٹریشن معطلی جیسے اقدامات کیے جائیں گے۔ والدین سے بھی کہا گیا ہے کہ اگر کوئی اسکول بچوں کو مقررہ وقت سے پہلے بلاتا ہے تو وہ فوری طور پر متعلقہ ضلعی تعلیم دفتر کو اطلاع دیں تاکہ بروقت کارروائی کی جا سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں