دنیا بھر کے ماہرینِ آثارِ قدیمہ کو حیران کرنے والی میکسیکو کی کرسٹل کھوپڑیاں (Crystal Skulls) آج بھی ایک معمہ بنی ہوئی ہیں۔ یہ کھوپڑیاں خالص شفاف کرسٹل یا کوارٹز پتھر سے نہایت نفاست کے ساتھ تراشی گئی ہیں، اور ان کی کاریگری اتنی باریک ہے کہ موجودہ جدید ٹیکنالوجی کے باوجود انہیں ہاتھ سے بنانا تقریباً ناممکن سمجھا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ کھوپڑیاں قدیم مایا اور ایزٹیک تہذیبوں کے زمانے سے تعلق رکھتی ہیں اور ان کا مقصد اب تک واضح نہیں ہو سکا۔
ان میں سے سب سے مشہور کھوپڑی، جسے “میچل ہیجز کرسٹل اسکل” کہا جاتا ہے، 1924 میں دریافت ہوئی تھی۔ یہ کھوپڑی انسانی ساخت کے بالکل عین مطابق ہے اور اس پر کسی دھات یا اوزار کے نشان نہیں پائے گئے۔ حیرت انگیز طور پر جب اس پر روشنی ڈالی جاتی ہے تو یہ مختلف رنگوں میں چمکنے لگتی ہے۔ بعض لوگ اسے روحانی یا ماورائی طاقتوں سے منسلک قرار دیتے ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کھوپڑیوں میں توانائی ذخیرہ ہوتی ہے، جو ذہنی ارتکاز یا روحانی رابطے میں مدد دیتی ہے۔
دوسری جانب، سائنسی ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ کھوپڑیاں دراصل جدید دور میں بنائی گئی نقلیں ہو سکتی ہیں، تاہم اب تک کوئی ٹھوس ثبوت سامنے نہیں آیا۔ یہی غیر یقینی صورتحال اور ان کے گرد پھیلی پراسرار فضا انہیں دنیا کے سب سے دلچسپ اور ناقابلِ فہم تاریخی رازوں میں شمار کرتی ہے۔







