ناروے کے شمالی حصے میں واقع وادی ہیسلڈن (Hessdalen) دنیا بھر کے سائنسدانوں اور محققین کے لیے ایک پراسرار جگہ ہے۔ یہاں رات کے وقت آسمان پر اچانک رنگ برنگی روشنیوں کے گولے نمودار ہوتے ہیں جو کئی سیکنڈ یا منٹ تک فضا میں تیرتے رہتے ہیں۔ یہ روشنی کبھی سفید، کبھی سرخ یا سبز رنگ کی دکھائی دیتی ہیں اور کسی خاص پیٹرن کے بغیر حرکت کرتی ہیں۔
یہ مظہر سب سے پہلے 1940 کی دہائی میں نوٹ کیا گیا، لیکن 1980 کی دہائی کے بعد اس کی مشاہداتی رپورٹیں زیادہ عام ہوئیں۔ ہزاروں لوگوں نے اسے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور کئی نے ویڈیوز اور تصاویر بھی بنائی ہیں۔ محققین نے اس پر متعدد تحقیقی منصوبے شروع کیے، جن میں Hessdalen Automatic Measurement Station بھی شامل ہے جو روشنیوں کی شدت، طول موج اور حرکت کا ڈیٹا اکٹھا کرتا ہے۔
سائنسدانوں نے مختلف نظریات پیش کیے، جن میں پانی کی بخارات، معدنیات کی مقناطیسی خصوصیات، یا الیکٹرو میگنیٹک فیلڈز شامل ہیں، لیکن کوئی حتمی وضاحت موجود نہیں۔ مقامی لوگ ان روشنیوں کو کبھی قدرتی مظہر، کبھی ماورائی طاقت یا روحانی علامت سمجھتے ہیں۔
ہیسلڈن لائٹس آج بھی ایک ناقابلِ فہم اور دلکش پراسراریت ہیں جو نہ صرف سائنسدانوں بلکہ دنیا بھر کے شائقینِ پراسرار حقائق کو اپنی طرف کھینچتی ہیں۔







