“روبوٹ آ رہے ہیں… کیا آپ تیار ہیں؟”

دنیا تیزی سے جدید ٹیکنالوجی کے دور میں داخل ہو چکی ہے، جہاں مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) اور روبوٹکس نے انسانی زندگی کے تقریباً ہر شعبے کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ فیکٹریوں سے لے کر بینکوں، اسپتالوں سے ریستورانوں، اور حتیٰ کہ گھریلو کاموں تک روبوٹس کی موجودگی اب معمول بنتی جا رہی ہے۔ یہ ترقی جہاں ایک طرف انسانی سہولت اور رفتار میں اضافہ کر رہی ہے، وہیں دوسری طرف ایک بڑا سوال پیدا ہو رہا ہے — کیا روبوٹس انسانوں کی جگہ لے لیں گے؟

گزشتہ چند برسوں میں دنیا بھر میں لاکھوں ایسے کام جو کبھی صرف انسان کر سکتے تھے، اب روبوٹس کر رہے ہیں۔ خودکار مشینیں دن رات بغیر آرام کے کام کر سکتی ہیں، غلطی نہیں کرتیں، اور اخراجات بھی کم کرتی ہیں۔ اسی لیے بڑی کمپنیاں تیزی سے انسانوں کی بجائے خودکار نظام (Automation Systems) پر انحصار بڑھا رہی ہیں۔ نتیجتاً، بہت سے مزدور، کلرک، اور دفتری ملازمین بے روزگاری کے خطرے سے دوچار ہیں۔

پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں یہ مسئلہ مزید سنگین ہو سکتا ہے، کیونکہ یہاں پہلے ہی روزگار کے مواقع محدود ہیں۔ اگر حکومت اور تعلیمی ادارے وقت کے تقاضوں کے مطابق نوجوانوں کو ڈیجیٹل مہارتیں (Digital Skills)، AI ٹریننگ اور ٹیکنالوجی بیسڈ تعلیم فراہم نہیں کریں گے، تو مستقبل میں لاکھوں لوگ اپنی ملازمتیں کھو سکتے ہیں۔

تاہم، یہ تصویر یکسر منفی نہیں۔ روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کے میدان میں نئے مواقع بھی پیدا ہو رہے ہیں — جیسے روبوٹ مینٹیننس، پروگرامنگ، ڈیٹا انیلیسس، اور AI سیکیورٹی جیسے پیشے تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ اب یہ انسان پر منحصر ہے کہ وہ اس تبدیلی کو خطرہ سمجھے یا موقع۔

دنیا آگے بڑھ رہی ہے، اور روبوٹ رکنے والے نہیں۔ اگر ہم نے وقت پر اپنے نوجوانوں کو مستقبل کی مہارتوں سے آراستہ نہ کیا، تو ٹیکنالوجی کی ترقی ہمارے لیے ترقی نہیں بلکہ تباہی کا باعث بن سکتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں