معاشی دباؤ میں اضافہ، پیٹرول ٹیکس نے عوامی زندگی اجیرن بنا دی!

تازہ ترین مالیاتی اعداد و شمار کے مطابق، حکومتِ پاکستان نے رواں مالی سال کے دوران پیٹرول اور دیگر پٹرولیم مصنوعات پر ٹیکسز کی مد میں عوام سے 371 ارب روپے جمع کیے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ رقم موجودہ مالی دباؤ کو کم کرنے میں مدد دے سکتی ہے، تاہم عوام پر بڑھتے ہوئے بوجھ نے مہنگائی کے خدشات کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ پیٹرولیم لیوی اور جنرل سیلز ٹیکس کے ذریعے حاصل ہونے والی یہ رقم وفاقی محصولات کا ایک اہم حصہ بن چکی ہے۔

اقتصادی ماہرین کے مطابق حکومت نے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے باوجود مقامی سطح پر ٹیکسز کی شرح برقرار رکھی، جس کے نتیجے میں عوام کو ریلیف نہ مل سکا۔ دوسری جانب، وزارتِ خزانہ کا کہنا ہے کہ یہ محصولات ترقیاتی منصوبوں اور توانائی کے شعبے میں اصلاحات کے لیے استعمال کیے جائیں گے۔ عوامی حلقے تاہم سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا اس بھاری ٹیکس وصولی کے باوجود ایندھن کی قیمتوں میں کوئی خاطر خواہ کمی ممکن ہو سکے گی؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں