جب ہم ذہنی دباؤ یا سٹریس کا شکار ہوتے ہیں تو ہمارا جسم اور دماغ دونوں ایسے ردِعمل ظاہر کرتے ہیں جو ہمیں عام دنوں کے مقابلے میں زیادہ کھانے کی طرف مائل کرتے ہیں۔ سب سے پہلے جسم میں کورٹیسول ہارمون کی مقدار بڑھ جاتی ہے، جو کہ ایک قدرتی ہارمون ہے اور دباؤ یا خطرے کی صورت میں جسم کو توانائی فراہم کرنے کے لیے تیار کرتا ہے۔ اس ہارمون کی زیادتی انسان کی بھوک بڑھا دیتی ہے اور خاص طور پر میٹھے، چکنائی والے اور تلی ہوئی چیزیں کھانے کی خواہش پیدا کرتی ہے، کیونکہ یہ کھانے دماغ میں خوشی پیدا کرنے والے کیمیکلز جیسے ڈوپامین کو بڑھاتے ہیں، جس سے وقتی طور پر ذہنی سکون ملتا ہے۔
دباؤ کی وجہ سے لوگ اکثر جذباتی طور پر کمزور ہو جاتے ہیں، اور ایسے میں کھانا ایک طرح کا جذباتی سہارا بن جاتا ہے، جسے ماہرین نے Emotion Eating کا نام دیا ہے۔ مثال کے طور پر، جب کوئی شخص تنہائی، پریشانی یا کام کے دباؤ میں ہوتا ہے تو وہ اکثر اپنے جذبات کو قابو میں رکھنے یا سکون پانے کے لیے کھانے کا سہارا لیتا ہے، حالانکہ جسمانی بھوک کم بھی ہو سکتی ہے۔
اس کے علاوہ ذہنی دباؤ اکثر نیند کی کمی کا سبب بھی بنتا ہے، اور نیند کی کمی سے بھوک بڑھانے والے ہارمون Ghrelin فعال ہو جاتے ہیں، جس کی وجہ سے انسان زیادہ کھانے لگتا ہے۔ ذہنی تھکن اور دماغی دباؤ کے دوران فیصلہ سازی کی صلاحیت کمزور ہو جاتی ہے، اس لیے لوگ آسان، فوری اور زیادہ تر غیر صحت مند کھانے کو ترجیح دیتے ہیں، جیسے فاسٹ فوڈ یا میٹھائیاں۔
مزید یہ کہ جسم دباؤ کو ایک خطرے کی حالت سمجھتا ہے اور Survival Mode میں چلا جاتا ہے، جس کا مطلب ہے کہ جسم زیادہ توانائی ذخیرہ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس تمام عمل کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ انسان ضرورت سے زیادہ کھاتا ہے، جس سے نہ صرف وزن بڑھتا ہے بلکہ صحت پر بھی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ یوں ذہنی دباؤ اور زیادہ کھانے کے درمیان ایک مضبوط تعلق وجود میں آ جاتا ہے، اور اس سے بچنے کے لیے ذہنی سکون، مناسب نیند، اور جذباتی کنٹرول کی ضرورت ہوتی ہے۔







