NDMA کی وارننگ: پاکستان میں 2026 میں مون سون کی بارش 22–26% زیادہ متوقع

نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (NDMA) نے 2026 کے مون سون سیزن کے حوالے سے شدید خبردار کیا ہے کہ ملک میں بارش کی مقدار عام سالوں کے مقابلے میں 22 سے 26 فیصد زیادہ متوقع ہے، جو پاکستان کے لیے ایک سنگین موسمی خطرہ ثابت ہو سکتا ہے۔ NDMA کے مطابق موجودہ موسمی ماڈلز اور شماریاتی تجزیے ایک شدید اور طویل مون سون کی نشاندہی کر رہے ہیں، جس کے نتیجے میں ملک کے مختلف اضلاع خصوصاً ندی نالوں کے نزدیک رہنے والے علاقوں میں سیلاب، زمین کھسکنے، فصلوں کے نقصان اور بنیادی ڈھانچے کی تباہی کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔

اتھارٹی نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ ابھی سے مکمل تیاری کریں، مقامی انتظامیہ اور متعلقہ محکموں کو ایمرجنسی پلانز، ریسکیو آپریشنز اور عوامی آگاہی پروگرامز کے لیے تیار کریں تاکہ ممکنہ نقصانات کو کم کیا جا سکے۔ NDMA نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ عموماً 6 سے 8 ماہ پہلے ارلی وارننگ جاری کرتی ہے تاکہ مقامی حکام اور عوام بروقت حفاظتی اقدامات کر سکیں، جیسے کہ ندی کنارے رہائشیوں کی منتقلی، پانی کے ذخائر کی نگرانی، اور بنیادی سہولیات کی حفاظت۔

وزیر موسمیاتی تبدیلی مسادق ملک نے بھی اس حوالے سے ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ قومی سطح پر پانی اور سیلاب کے انتظامات کو فعال اور تیز کیا جائے، تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری ردعمل ممکن ہو۔ مزید خطرہ اس بات کا ہے کہ پاکستان کے گلیشیئرز کی پگھلنے کی رفتار میں اضافہ ہو رہا ہے، جو مون سون کی شدت کے ساتھ مل کر سیلاب کے امکانات کو مزید بڑھا دیتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ پیشگوئی درست ثابت ہوئی تو نہ صرف شہری علاقوں بلکہ دیہی علاقوں، زرعی زمینوں اور بنیادی ڈھانچے پر بھی شدید اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ اس لیے پورا ملک، خاص طور پر خطرے والے اضلاع، کو فوری طور پر تیار رہنا چاہیے، عوام کو آگاہ کیا جانا چاہیے، اور تمام متعلقہ ادارے ہنگامی ردعمل کے لیے مکمل تیاری میں رہیں۔ یہ صورتحال یہ واضح کرتی ہے کہ مون سون کے موسم میں بروقت تیاری اور احتیاط ہی نقصان کو کم کرنے کا سب سے مؤثر طریقہ ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں