ملک بھر میں خسرہ، روبیلا اور پولیو سے بچاؤ کی قومی ویکسی نیشن مہم 17 نومبر سے 29 نومبر 2025 تک نہایت منظم اور بھرپور انداز میں جاری ہے، جسے پاکستان کی تاریخ کی سب سے بڑی حفاظتی مہمات میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے۔ اس مہم کا بنیادی مقصد بچوں کو تین ایسی خطرناک بیماریوں سے محفوظ بنانا ہے جو نہ صرف تیزی سے پھیلتی ہیں بلکہ کم عمر بچوں کے لیے جان لیوا پیچیدگیاں بھی پیدا کر سکتی ہیں۔ اسی مقصد کے تحت 34.6 ملین بچوں کو خسرہ اور روبیلا کے خلاف ویکسین لگانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جبکہ ساتھ ہی 23.3 ملین بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کا عمل بھی جاری ہے، خصوصاً ان 90 اضلاع میں جہاں وائرس کے دوبارہ پھیلنے کا خدشہ زیادہ ہے۔ اس مہم میں ہزاروں تربیت یافتہ ویکسینیٹرز کی ٹیمیں مصروف ہیں جو گھر گھر جا رہی ہیں، اسکولوں، اسپتالوں، کمیونٹی مراکز، گلی محلوں اور پسماندہ بستیوں میں خصوصی مراکز قائم کیے گئے ہیں تاکہ کوئی بچہ رہ نہ جائے۔ مختلف صوبوں میں بھی اس مہم کی رفتار تیز ہے؛ خیبر پختونخوا میں تقریباً 6 لاکھ بچوں کو MR ویکسین دینے کا ہدف رکھا گیا ہے، جبکہ بلوچستان کے دور دراز علاقوں، بشمول خضدار، میں بھی یہی سرگرمیاں جاری ہیں۔ حکومتِ پاکستان، عالمی ادارۂ صحت اور یونیسف نے والدین سے اپیل کی ہے کہ وہ ٹیموں سے تعاون کریں، اپنے بچوں کو لازمی ویکسین لگوائیں اور افواہوں سے دور رہیں، کیونکہ یہی اقدامات بچوں کے محفوظ مستقبل اور بیماریوں کے خاتمے کی ضمانت ہیں۔
ملک بھر میں خسرہ، روبیلا اور پولیو کی ویکسی نیشن مہم 17 نومبر سے 29 نومبر تک جاری
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل







