اداکارہ قدسیہ علی نے ایک انٹرویو میں تفصیل سے بتایا کہ انہیں شادی کے معاملے میں اس لیے مسترد کیا گیا کیونکہ وہ ایک معروف اداکارہ ہیں۔ قدسیہ علی کے مطابق ایک سابق تعلق محبت کی بنیاد پر قائم تھا اور دونوں طرف جذباتی وابستگی موجود تھی، مگر جب معاملہ باضابطہ شادی تک پہنچا تو سامنے والوں نے انہیں واضح طور پر بتا دیا کہ اداکارہ ہونے کی وجہ سے وہ انہیں اپنی زندگی کا حصہ نہیں بنا سکتے۔ قدسیہ علی نے بتایا کہ شوبز سے وابستہ خواتین، خاص طور پر اداکارائیں، اکثر معاشرتی اور ثقافتی توقعات کی زد میں رہتی ہیں۔ معاشرے میں ایک عمومی تاثر یہ ہے کہ اداکارہ ہونے کے ناطے وہ “آزاد طرز زندگی” اپناتی ہیں، اپنی مرضی کے مطابق فیصلے کرتی ہیں، اور ازدواجی زندگی میں “گھر کی روایات” کے مطابق رہنے میں مشکل محسوس کر سکتی ہیں۔
قدسیہ علی نے مزید کہا کہ عام لوگ اداکاراؤں کی صلاحیتوں اور شخصیت کی تعریف ضرور کرتے ہیں، مگر ان کے خاندان میں شامل ہونے کو بعض افراد ایک رکاوٹ اور خطرہ سمجھتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ خواہ محبت اور جذبات موجود ہوں، مگر سماجی دباؤ، منفی تاثر اور امتیازی سوچ کی وجہ سے شادی کے امکانات محدود ہو جاتے ہیں۔ یہ بیان اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان میں شوبز سے وابستہ خواتین کو ابھی بھی اپنے کیریئر کی وجہ سے ذاتی زندگی میں رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس قسم کے رویے نہ صرف خواتین کے لیے ذہنی دباؤ اور جذباتی مشکلات پیدا کرتے ہیں بلکہ معاشرتی انصاف اور مساوی حقوق کے اصولوں کے بھی خلاف ہیں۔ قدسیہ علی کی کہانی اس بات کی یاد دہانی ہے کہ خواتین چاہے کسی بھی شعبے سے وابستہ ہوں، انہیں معاشرتی تعصبات اور امتیازی سوچ سے آزاد رہ کر اپنی ذاتی اور پیشہ ورانہ زندگی گزارنے کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ اس طرح کی کہانیاں عوامی بحث اور شعور کے لیے اہم ہیں تاکہ معاشرے میں رویوں میں تبدیلی آئے اور خواتین کو ان کے کیریئر، شناخت اور آزادی کے باوجود عزت اور مساوی حقوق حاصل ہوں۔







