بنگلہ دیش کی سابق وزیرِاعظم شیخ حسینہ واجد کو تین کرپشن کے مقدمات میں مجموعی طور پر 21 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے، جس میں ہر مقدمے میں سات سال کی سزا شامل ہے اور یہ ایک دوسرے کے بعد یعنی یکے بعد دیگرے (consecutive) کے حساب سے دی گئی ہے۔ یہ مقدمات دارالحکومت ڈھاکہ کے معروف رہائشی منصوبے Purbachal New Town Project سے متعلق تھے، جن میں الزام تھا کہ شیخ حسینہ واجد نے غیر قانونی طریقے سے پلاٹس الاٹ کروائے اور عوامی زمین کو نجی مفاد کے لیے استعمال کیا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ اس طرح کی کارروائی قانونی حدود کے خلاف ہے اور اس سے سرکاری اثاثوں کے غلط استعمال اور عوامی اعتماد کی پامالی ہوئی۔
عدالت نے اس کے ساتھ ہی شیخ حسینہ واجد کے بچوں، بیٹے سجیب واجد جوائے اور بیٹی صائمہ واجد پُتول کو بھی پانچ پانچ سال قید کی سزا سنائی ہے، کیونکہ وہ بھی ان غیر قانونی عملوں میں شامل تھے۔ عدالتی استدلال کے مطابق عوامی زمین کو نجی مفاد کے لیے استعمال کرنا اور سرکاری طاقت کے ذریعے مالی فائدہ اٹھانا نہ صرف قانوناً غلط ہے بلکہ ریاستی اخلاقیات کے خلاف بھی ہے۔
اس مقدمے کے پس منظر میں بتایا گیا ہے کہ Purbachal New Town Project میں پلاٹس کی الاٹمنٹ کے دوران کئی غیر قانونی طریقے اپنائے گئے، جن میں سرکاری قوانین کی خلاف ورزی شامل تھی۔ عدالت نے شواہد کی بنیاد پر یہ فیصلہ کیا کہ شیخ حسینہ واجد اور ان کے اہل خانہ نے عوامی وسائل کا ناجائز فائدہ اٹھایا اور منصوبے میں مداخلت کی، جس کی وجہ سے انہیں سخت سزا دی گئی۔ یہ فیصلہ نہ صرف بنگلہ دیش میں کرپشن کے خلاف عدالتی کارروائی کی مثال ہے بلکہ اس سے یہ پیغام بھی ملتا ہے کہ کسی بھی سرکاری عہدیدار یا سیاستدان کے لیے عوامی وسائل کے ناجائز استعمال کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
یہ واقعہ ملکی اور بین الاقوامی سطح پر بھی توجہ کا مرکز بنا ہے، اور بنگلہ دیش میں سیاسی اور عوامی حلقوں میں اس فیصلے پر مختلف ردعمل سامنے آئے ہیں۔







