سردیوں کا موسم خوشیوں، تہواروں اور گرم مشروبات کا مزہ لے کر آتا ہے، لیکن یہ موسم صحت کے لیے کئی چیلنجز بھی پیدا کرتا ہے۔ کم درجہ حرارت اور سرد ہوا جسم کی قوت مدافعت کو کمزور کر دیتی ہے، جس کے نتیجے میں زکام، کھانسی، نزلہ اور سینے کی بیماریاں عام ہو جاتی ہیں۔ بچوں، بزرگوں اور وہ افراد جو پہلے سے کسی بیماری میں مبتلا ہیں، ان کے لیے یہ خطرات زیادہ بڑھ جاتے ہیں۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ سردیوں میں وٹامن ڈی کی کمی، غذائی قلت اور پانی کی کم مقدار بھی صحت کے مسائل کو بڑھا دیتی ہے۔
سردی میں جلد خشک ہو جاتی ہے اور خارش، چیڑ یا دانے نکلنے کے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ جوڑوں اور ہڈیوں کے درد میں اضافہ ہو سکتا ہے، خاص طور پر وہ لوگ جو پہلے سے آرتھرائٹس یا ہڈیوں کی کمزوری میں مبتلا ہیں۔ اس کے علاوہ، سردی کا اثر ذہنی صحت پر بھی پڑتا ہے۔ روشنی کی کمی اور کم حرارت کے باعث موڈ سوئنگز، ڈپریشن اور توانائی کی کمی عام دیکھنے میں آتی ہے۔
صحت مند رہنے کے لیے ضروری ہے کہ لوگ گرم کپڑے پہنیں، متوازن غذا لیں اور پانی کی مناسب مقدار پئیں۔ وٹامن ڈی کے لیے دھوپ کا مناسب استعمال بھی فائدہ مند ہے۔ فلو، زکام اور دیگر سانس کی بیماریوں سے بچاؤ کے لیے ویکسینیشن اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنا لازمی ہے۔ بزرگ افراد اور بچے خصوصی دیکھ بھال کے مستحق ہیں، جبکہ ذیابیطس اور دل کی بیماری والے افراد کو سردی میں اور زیادہ محتاط رہنا چاہیے۔
سردیوں کے موسم میں معاشرتی اور حکومتی سطح پر بھی اقدامات ضروری ہیں۔ عوامی آگاہی مہمات، صحت کے مراکز کی سہولیات اور حفاظتی اقدامات عوام کی زندگیوں کو محفوظ بنانے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ اگرچہ سردی کا موسم لطف اور خوشیوں کا باعث ہے، لیکن اس کے منفی اثرات کو نظر انداز کرنا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ اس لیے ہر فرد کو چاہیے کہ وہ ذاتی اور خاندانی احتیاطی تدابیر اپنائے تاکہ سردیوں میں صحت مند اور خوشحال زندگی گزاری جا سکے۔







