پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں حالیہ دنوں کے دوران تقریباً 13 کروڑ ڈالر سے زائد کی کمی رپورٹ کی گئی ہے، جس کے بعد کل ذخائر تقریباً 19.60 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔ ماہرین اقتصادیات کے مطابق اس کمی کی بنیادی وجہ کمرشل بینکوں کی جانب سے زرمبادلہ نکالنا اور درآمدات کے بڑھتے ہوئے دباؤ کی وجہ سے ہوئی، جبکہ مرکزی بینک کے ذخائر میں معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ زرمبادلہ کے یہ ذخائر ملک کی بیرونی خریداری، درآمدات، قرضوں کی ادائیگی اور بین الاقوامی مالی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے لیے انتہائی اہمیت رکھتے ہیں۔
اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ کمی مسلسل جاری رہی تو اس سے نہ صرف روپے کی قدر پر دباؤ بڑھے گا بلکہ ملک کی بیرونی ادائیگیوں کے لیے بھی مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔ پاکستان کی معاشی پالیسیوں، درآمدات میں توازن، اور برآمدات میں اضافے کے اقدامات زرمبادلہ ذخائر کو مستحکم کرنے کے لیے ناگزیر ہیں۔ عوام کے لیے بھی یہ صورتحال خبردار کرنے والی ہے، کیونکہ زرمبادلہ کے کمزور ذخائر عام شہریوں کی خریداری، درآمدی مصنوعات کی قیمتوں، اور روزمرہ مہنگائی پر اثر ڈال سکتے ہیں۔
یہ واضح ہے کہ ملک کے اقتصادی استحکام کے لیے زرمبادلہ ذخائر کا متوازن ہونا انتہائی ضروری ہے، اور حکومت و مرکزی بینک دونوں کے لیے یہ ایک چیلنج ہے کہ وہ اس کمی کو فوری طور پر قابو پائیں تاکہ ملکی معیشت پر منفی اثرات نہ پڑیں۔







