پنجاب حکومت نے 25 سال بعد بسنت کی مشروط اجازت دے دی

پنجاب حکومت نے تقریباً پچیس سال بعد بسنت منانے کی مشروط اجازت دے دی ہے، جس کے تحت پتنگ بازی صرف سخت قوانین اور حفاظتی اصولوں پر عمل کی صورت میں ممکن ہوگی۔ نئے آرڈیننس کے مطابق صرف روئی کے دھاگے کی اجازت ہو گی جبکہ کیمیکل، میٹل یا کورڈ ڈور کا استعمال مکمل طور پر ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ پتنگ اور دھاگہ بیچنے والے دکانداروں اور کارخانوں کو حکومتی رجسٹریشن لازمی کرانا ہوگی، اور ہر پتنگ و ڈور پر QR کوڈ لگانا ضروری ہوگا تاکہ ذمہ داری کا تعین ہوسکے۔ 18 سال سے کم عمر افراد کو پتنگ بازی کی اجازت نہیں جبکہ خلاف ورزی کرنے والے سرپرستوں پر بھاری جرمانے عائد ہوں گے۔ خطرناک ڈور بنانے یا استعمال کرنے والوں کے لیے قید اور لاکھوں روپے تک کے جرمانے بھی مقرر کیے گئے ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ بسنت پنجاب کی ثقافتی روایت ہے اور عوام اس تہوار سے جڑے ہیں، اس لیے اسے محفوظ اور منظم انداز میں بحال کرنا مقصد ہے تاکہ جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے اور کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں