جنید جمشیدکو بچھڑے 9 برس—ایک عہد، ایک آواز آج بھی دلوں میں زندہ

7 دسمبر 2016 کا دن پاکستان کی تاریخ کا ایک انتہائی المناک دن تھا۔ اسی روز حویلیاں کے قریب پی آئی اے کی پرواز PK-661 حادثے کا شکار ہوئی، جس میں معروف نعت خواں، مبلغ، اور تبدیلی کی ایک علامت جنید جمشیدؒ اپنی اہلیہ کے ساتھ شہید ہوگئے۔ آج ان کے بچھڑ جانے کو 9 برس گزر چکے ہیں، مگر ان کی آواز، ان کی نعتیں، ان کا اخلاق اور ان کی دعوتِ دین آج بھی اسی طرح دلوں میں زندہ ہیں۔

جنید جمشید کی شخصیت ایک پوری نسل کی یادوں سے جڑی ہوئی ہے۔ 90 کی دہائی میں وہ پاپ میوزک کے آئیکون تھے، “دل دل پاکستان” جیسے لازوال نغمے نے انہیں پوری دنیا میں پہچان دی۔ مگر پھر زندگی نے ایک نیا رخ لیا — اور وہ شہرت، موسیقی اور اسٹیج کی چکاچوند چھوڑ کر دین کی طرف ایسے مڑے کہ ایک عالم ان کی مثال دیتا رہا۔
ان کا تبلیغی کام، بیان کرنے کا انداز، اور نرم گفتگو نے لوگوں کے دل بدل دیے۔ وہ جہاں کھڑے ہو کر نعت پڑھتے تھے وہاں سکون اتر آتا تھا؛ “مدینہ مدینہ” کی سرگم آج بھی سننے والوں کے دل میں روشنی بھر دیتی ہے۔

حادثے کے دن پاکستان کے ہر گھر میں سوگ تھا۔ ہر شخص نے یہ محسوس کیا کہ جیسے اپنا کوئی قریبی چلا گیا ہو۔ 9 سال گزرنے کے باوجود ان کی کمی محسوس ہوتی ہے۔ ان کا نام آتے ہی دل میں ایک احترام، محبت اور عزم بیدار ہوتا ہے کہ زندگی کا اصل مقصد کیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں