حکومت کی جانب سے کیے گئے حالیہ فیصلے کے تحت اب تعلیمی اداروں میں طالبات کو مرد اساتذہ نہیں پڑھائیں گے، بلکہ ان کی تعلیم و تربیت کی ذمہ داری خواتین اساتذہ کے سپرد کی جائے گی۔ اس فیصلے کا بنیادی مقصد تعلیمی ماحول کو زیادہ محفوظ، بااعتماد اور سماجی اقدار کے مطابق بنانا ہے تاکہ والدین اور طالبات دونوں خود کو مطمئن محسوس کریں۔
حکام کے مطابق اس پالیسی پر عملدرآمد مرحلہ وار کیا جائے گا، تاکہ تعلیمی نظام متاثر نہ ہو اور اداروں کو خواتین اساتذہ کی تعیناتی کے لیے مناسب وقت دیا جا سکے۔ خاص طور پر کالجز اور اسکولز میں اساتذہ کی نئی بھرتیوں اور تبادلوں کے ذریعے اس فیصلے کو عملی شکل دی جائے گی۔ دیہی علاقوں میں جہاں خواتین اساتذہ کی کمی ہے، وہاں خصوصی اقدامات کرنے کی بھی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔
تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس فیصلے پر مؤثر منصوبہ بندی کے ساتھ عمل کیا گیا تو یہ طالبات کے لیے ایک مثبت اور سازگار تعلیمی ماحول فراہم کر سکتا ہے۔ تاہم، بعض حلقوں کی جانب سے اس پر عملدرآمد کے عملی چیلنجز کی نشاندہی بھی کی جا رہی ہے، جن میں اساتذہ کی دستیابی اور تعلیمی معیار کو برقرار رکھنا شامل ہے۔ حکام کا مؤقف ہے کہ تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے اس فیصلے کو نافذ کیا جائے گا تاکہ طالبات کی تعلیم کسی صورت متاثر نہ ہو۔







