لاہور دنیا کے سب سے زیادہ آلودہ شہروں کی فہرست میں سرِ فہرست آ گیا ہے، جہاں فضائی آلودگی کی سطح خطرناک حد تک پہنچ گئی ہے اور شہریوں کی زندگیوں پر گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ محکمہ ماحولیات اور ماحولیاتی ماہرین کے مطابق لاہور کا ایئر کوالٹی انڈیکس (AQI) 300 سے تجاوز کر چکا ہے، جو عالمی معیار کے مطابق انتہائی خطرناک زمرے میں آتا ہے۔ اس شدید آلودگی کے باعث سانس کے امراض، دل کی بیماریاں، پھیپھڑوں کے انفیکشن اور دیگر صحت کے مسائل میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جبکہ بچوں، بزرگوں اور پہلے سے بیمار افراد کے لیے خطرات سب سے زیادہ ہیں۔
ماہرین کے مطابق لاہور میں فضائی آلودگی کی بنیادی وجوہات میں گاڑیوں کے دھوئیں، صنعتی فضلہ، فیکٹریوں سے خارج ہونے والے زہریلے گیسیں، تعمیراتی کاموں سے اٹھنے والی دھول اور فوسل فیول کے استعمال شامل ہیں۔ سردیوں میں کوئلے اور لکڑی کے ہیٹرز کے استعمال سے بھی آلودگی میں اضافہ ہوتا ہے۔ علاوہ ازیں، شہر میں سبزے کی کمی اور پبلک ٹرانسپورٹ کے محدود وسائل بھی اس بحران کو بڑھا رہے ہیں۔
ماہرین اور شہری حلقوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری اقدامات کیے جائیں، جیسے صنعتی اور ٹریفک ایریاز میں آلودگی کنٹرول اقدامات، پبلک ٹرانسپورٹ کی بہتری، سبزہ کاری کے پروگرامز اور عوامی شعور بیدار کرنے کی مہمات تاکہ فضائی آلودگی کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔ اگر یہ صورتحال قابو میں نہ آئی تو نہ صرف شہریوں کی صحت متاثر ہوگی بلکہ لاہور کی معیشت اور زندگی کے معیار پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔







