حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں اعلیٰ تعلیم یافتہ اور ماہر پروفیشنلز کے ملک چھوڑنے کا سلسلہ جاری ہے۔ گزشتہ دو سال میں تقریباً 5,000 ڈاکٹرز اور 11,000 انجینئرز مختلف ترقی یافتہ ممالک میں نوکریوں کے لیے منتقل ہو چکے ہیں۔ اس صورتحال نے ملک میں صحت اور ترقیاتی شعبوں میں مہارت کی کمی پیدا کر دی ہے اور “برین گین” کے دعووں کو شدید سوالات کے نشانے پر ڈال دیا ہے۔
حکومتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس ٹیلنٹ ایگزِڈس کی بنیادی وجوہات میں کم تنخواہیں، بہتر مواقع کی کمی، کام کے ماحول کی مشکلات، اور بین الاقوامی سطح پر بہتر معیار زندگی کی تلاش شامل ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو ملک کی معیشت اور ترقیاتی منصوبوں پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
حکومت نے اس مسئلے پر قابو پانے کے لیے خصوصی حوافز، مراعات اور پروفیشنلز کے لیے بہتر ماحول فراہم کرنے کے اقدامات کا اعلان کیا ہے، تاکہ ملک میں ماہرین کی کمی کو کم کیا جا سکے اور مستقبل میں برین ڈرین کو روکنے میں مدد ملے۔







