سردیوں کے کپڑوں کی فروخت میں اس سال شدید کمی دیکھنے کو ملی ہے، جس کی بنیادی وجہ ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور عوام کی کمزور خریداری کی قوت ہے۔ اسٹورز اور برانڈز نے اپنی فروخت بڑھانے کے لیے 60 سے 70 فیصد تک رعایتیں دی ہیں تاکہ پرانا اسٹاک بیچ کر نئی کلیکشن کے لیے جگہ بنائی جا سکے، لیکن اس کے باوجود صارفین قیمتوں میں کمی کے باوجود خریداری کرنے میں محتاط نظر آ رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مہنگائی کی وجہ سے عام آدمی صرف ضروری اشیاء پر خرچ کر رہا ہے، جس سے غیر ضروری اشیاء جیسے جیکٹس، سویٹرز اور دیگر سردیوں کے ملبوسات کی فروخت متاثر ہو رہی ہے۔ مثال کے طور پر، اگر کسی جیکٹ کی اصل قیمت 5,000 روپے تھی اور سیل میں 60 فیصد کمی کے بعد وہ 2,000 روپے میں دستیاب ہے، تب بھی بہت سے صارفین مہنگائی کی وجہ سے اسے خریدنے سے قاصر ہیں۔
نتیجتاً، سردیوں کے کپڑوں کی مارکیٹ میں فروخت میں کمی نے اسٹورز اور برانڈز کی آمدنی پر منفی اثر ڈالا ہے اور مارکیٹ کی مجموعی سرگرمیوں کو متاثر کیا ہے۔ اس صورتحال نے واضح کر دیا ہے کہ مہنگائی کے اس دور میں عوام کی قوتِ خرید اور مارکیٹ کی فروخت کے درمیان توازن برقرار رکھنا ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔







