پنجاب میں شدید اسموگ کے باعث نہ صرف فضائی آلودگی خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے بلکہ اس کے ساتھ ہی سپر فلو اور انفلوئنزا کے کیسز میں تشویشناک حد تک اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ سرکاری و نجی اسپتالوں کے او پی ڈیز میں روزانہ ہزاروں مریض نزلہ، زکام، تیز بخار، کھانسی، گلے کی سوزش اور سانس لینے میں دشواری کی شکایات کے ساتھ رجوع کر رہے ہیں۔ ماہرینِ صحت کے مطابق اسموگ میں موجود مضر ذرات پھیپھڑوں اور مدافعتی نظام کو شدید متاثر کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں وائرل انفیکشن تیزی سے پھیلتا ہے اور معمولی فلو بھی خطرناک شکل اختیار کر لیتا ہے، خاص طور پر بچوں، بزرگوں اور دمہ و دل کے مریضوں کے لیے۔
ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اسموگ کے دنوں میں فلو طویل ہو جاتا ہے اور بعض کیسز میں نمونیا اور سانس کی شدید بیماریوں کا خدشہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ صورتحال کے پیشِ نظر محکمہ صحت نے شہریوں کو غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نہ نکلنے، ماسک کے استعمال، گرم پانی پینے، ویکسین لگوانے اور علامات ظاہر ہونے پر فوری طبی مشورہ لینے کی ہدایت کی ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر احتیاطی تدابیر پر عمل نہ کیا گیا تو آنے والے دنوں میں فلو اور انفلوئنزا کے کیسز میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، جو صحت کے نظام پر اضافی دباؤ کا سبب بنے گا۔







