چین کی جانب سے میگ لیو (Maglev) ٹرین ٹیکنالوجی میں قائم کیا گیا یہ نیا ریکارڈ دنیا بھر میں توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ تجرباتی مرحلے کے دوران اس ٹرین نے صرف دو سیکنڈ میں 700 کلومیٹر فی گھنٹہ کی حیران کن رفتار حاصل کی، جو جدید سائنسی اور انجینئرنگ مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ یہ تجربہ ایک مخصوص اور محدود ٹیسٹ ٹریک پر کیا گیا، جہاں مقناطیسی نظام کے ذریعے ٹرین کو پٹری سے اوپر معلق رکھا گیا، جس سے رگڑ نہ ہونے کے برابر ہو گئی اور رفتار میں غیر معمولی اضافہ ممکن ہوا۔
تاہم سوشل میڈیا اور غیر مصدقہ ذرائع پر یہ دعویٰ گردش کر رہا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کے ذریعے کراچی سے لاہور کا سفر صرف 90 منٹ میں طے کیا جا سکتا ہے، جو حقیقت پر مبنی نہیں۔ اس وقت نہ تو پاکستان میں میگ لیو ٹرین کا کوئی نیٹ ورک موجود ہے اور نہ ہی حکومت کی جانب سے ایسا کوئی عملی منصوبہ سامنے آیا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگرچہ مستقبل میں میگ لیو ٹرینیں طویل فاصلے انتہائی کم وقت میں طے کرنے کی صلاحیت رکھ سکتی ہیں، مگر اس کے لیے بھاری سرمایہ کاری، جدید انفراسٹرکچر، حفاظتی انتظامات اور طویل منصوبہ بندی درکار ہوتی ہے۔
مختصر یہ کہ چین کا یہ ریکارڈ مستقبل کی تیز رفتار سفری سہولیات کی ایک جھلک ضرور دکھاتا ہے، لیکن اسے فوری طور پر کراچی اور لاہور جیسے شہروں کے درمیان عملی سفر سے جوڑنا محض قیاس آرائی ہے، حقیقت نہیں۔







